صحافیوں پر تشدد اور میڈیا گاڑیوں کی توڑ پھوڑ پر پریس کلب کی تشویش
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(صباح نیوز) کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، سیکرٹری اسلم خان اور مجلس عاملہ نے باغِ جناح میں پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے جلسے کی کوریج کے دوران صحافیوں پر تشدداور میڈیا ہاؤسز کی گاڑیوں و ڈی ایس این جیزکی توڑ پھوڑ کے واقعے پر شدید تشویش کااظہار کیا ہے۔ کراچی پریس کلب سے جاری بیان میں کراچی پریس کلب کے عہدیداروں نے کہاکہ وزیرِ اعلی خیبر پختونخوا کے دورہ کراچی کے موقع پر باغِ جناح میں منعقدہ جلسے کی کوریج کے دوران پی ٹی آئی کارکنان اور پولیس کے درمیان تصادم کے نتیجے میں صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایاگیا،جو آزادی صحافت پر براہِ راست حملہ ہے، ہنگامہ آرائی کے دوران صحافیوں، کیمرہ مینوں اور ڈی ایس این جی آپریٹرز پر تشدد اور میڈیا ہاؤسز کی گاڑیوں کو نقصان پہنچانا انتہائی قابلِ مذمت اور افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرائض کی انجام دہی کے دوران صحافیوں کو نشانہ بنانا جمہوری اقدار کے بھی منافی ہے۔کراچی پریس کلب کے عہدیداروں نے مطالبہ کیاکہ واقعے میں ملوث عناصر کی فوری شناخت کرکے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور متاثرہ میڈیا ہاؤسز کے ہونے والے مالی نقصان کا فوری ازالہ کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کراچی پریس کلب کے دوران
پڑھیں:
’میمز‘ سے انقلاب؟ سی جے پی احتجاج میں جین زی کا نیا انداز
بھارت میں مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور امتحانی نظام میں بے ضابطگیوں کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج اب صرف سڑکوں تک محدود نہیں رہا بلکہ سوشل میڈیا پر بھی ایک نئی تحریک کی شکل اختیار کر گیا ہے۔
اس احتجاج کی قیادت کاکروچ جنتا پارٹی کر رہی ہے، جو ابتدا میں بھارت کے چیف جسٹس کے ایک طنزیہ ریمارکس کے جواب میں وجود میں آئی تھی۔ بعد ازاں یہ تحریک نیٹ پرچہ لیک، سرکاری ملازمتوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے تک پھیل گئی۔
گزشتہ ایک ماہ سے نئی دہلی کے جنتر منتر پر دھرنا دینے والے مظاہرین وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور امتحانی نظام میں شفاف اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
جنریشن زیڈ میمز، انسٹاگرام ریلز، وائرل ٹرینڈز، بالی ووڈ، کے-پاپ اور آن لائن کلچر کے ذریعے اپنے مطالبات حکومت اور دنیا تک پہنچا رہی ہے۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ آخر وہ کون سے ٹرینڈز ہیں جنہوں نے اس احتجاج کو سوشل میڈیا پر دیگر تحریکوں سے منفرد بنا دیا ہے۔
جین زی کا منفرد احتجاجی انداز:
گیٹ ریڈی ود می ٹرینڈ:
احتجاج کے دوران سوشل میڈیا پر ’گیٹ ریڈی وِد می‘ کی ویڈیوز بھی نمایاں ٹرینڈ بن کر سامنے آئی ہیں۔
عام طور پر یہ فارمیٹ میک اپ، اسکن کیئر یا کسی تقریب کی تیاری دکھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، لیکن اس بار نوجوان مظاہرین نے اسے احتجاجی انداز میں اپنایا ہے۔
ویڈیوز کا آغاز عموماً اس کیپشن سے ہوتا ہے کہ ’’نیٹ پیپر لیک کے احتجاج میں شریک ہونے کیلئے میرے ساتھ تیار ہوں‘‘، جس کے بعد احتجاجی بینرز تیار کرنا، پانی کی بوتلیں، دیگر ضروری سامان پیک کرنا، اور دوستوں کے ساتھ احتجاجی مقام کی جانب روانگی جیسے مناظر دکھائے جاتے ہیں۔
View this post on Instagramہوو سیڈ آئی لوو یو فرسٹ ٹرینڈ:
سوشل میڈیا پر مقبول ’ہوو سیڈ آئی لوو یو فرسٹ‘ ٹرینڈ کو بھی نوجوان مظاہرین نے احتجاجی انداز میں استعمال کیا۔
اس وائرل فارمیٹ میں عام طور پر رومانوی سوالات پوچھے جاتے ہیں، تاہم کانٹینٹ کریئٹرز نے ان سوالات کی جگہ احتجاج، نیٹ پرچہ لیک اور حکومتی اقدامات سے متعلق طنزیہ جملے شامل کر دیے۔
View this post on Instagram
حقیقی زندگی میں ’سب وے سرفرز‘
احتجاج کے دوران پولیس سے بچنے کے مناظر کو بھی جین زی نے مشہور موبائل گیم ’سب وے سرفرز‘ سے تشبیہ دے دیا۔
متعدد انسٹاگرام ریلز میں مظاہرین پولیس سے بچتے اور بھاگتے ہوئے نظر آتے ہیں جبکہ پس منظر میں گیم کی مشہور موسیقی چل رہی ہوتی ہے۔
یہ انداز خاص طور پر ان نوجوانوں میں مقبول ہوا جو بچپن سے اس موبائل گیم سے واقف تھے۔ یوں احتجاج کی مختصر ویڈیوز صرف مظاہرے کی جھلک تک محدود نہ رہیں بلکہ میمز کی شکل اختیار کرتے ہوئے وسیع پیمانے پر سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے لگیں۔
View this post on Instagram