وزیر داخلہ سندھ کا مزار قائد کے قریب نجی نیوز چینل کی گاڑی پر حملے کا نوٹس
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کراچی میں مزار قائد کے قریب نجی نیوز چینل کی گاڑی کو نقصان پہنچائے جانے کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ایسٹ سے تفصیلات طلب کرلیں۔
ضیاالحسن لنجار کا کہنا ہے کہ کسی کو امن اور امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، وزیر داخلہ نے پولیس کو ہدایات دیں کہ شرپسندوں کو گرفتار کیا جائے۔
کراچی: باغ جناح میں پولیس اہلکاروں پر پی ٹی آئی کارکنان کا پتھراؤپولیس کا کہنا ہے کہ 30 سے زائد کارکنان کو حراست میں لیا گیا ہے، ایک پولیس اہلکار مظاہرین کے تشدد سے زخمی ہوا ہے۔
ترجمان ایم کیو ایم پاکستان کا کہنا ہے کہ میڈیا ورکرز پر حملہ کراچی کے عوام کا طرز عمل نہیں، شرپسندوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
کراچی یونین آف جرنلسٹس نے بھی صحافیوں پر پی ٹی آئی کارکنوں کے تشدد کی مذمت کی ہے۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت میڈیا پرسن پر تشدد کا فوری نوٹس لے۔
کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور نے بھی باغِ جناح کراچی میں صحافیوں پر تشدد اور میڈیا ہاؤسز کی گاڑیوں اور آلات میں توڑ پھوڑ کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔