پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے رواں سیزن میں شامل ہونے والی نئی ٹیم سیالکوٹ کے کپتان اور ممکنہ اسکواڈ سے متعلق فرنچائز مالک نے اہم اشارے دے دیے ہیں۔

پی ایس ایل میں اس سال دو نئی ٹیمیں شامل کی گئی ہیں جن میں ایک حیدرآباد جبکہ دوسری سیالکوٹ کے نام سے میدان میں اترے گی جس پر شائقین کرکٹ کی دلچسپی عروج پر ہے۔

سیالکوٹ ٹیم کے اونر حمزہ مجید کا کہنا ہے کہ کپتان اور حتمی اسکواڈ کا فیصلہ 30 جنوری کو ہونے والی کھلاڑیوں کی بڈنگ کے بعد کیا جائے گا، تاہم ٹیم کی حکمت عملی کا خاکہ واضح ہے۔

مزید پڑھیں

پی ایس ایل میں شامل ہونے والی 2 نئی ٹیموں کے نام کیا ہیں؟

 لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس ماہ کے آخر تک پلئیرز ڈرافٹنگ کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔حمزہ مجید نے کہا کہ بابر اعظم کو ٹیم میں شامل کرنا سب کی خواہش ہے۔ ان کا کہنا تھا چھ سے سات آسٹریلین کرکٹرز ڈرافٹنگ کے لیے رجسٹر ہو چکے ہیں جن میں سے تین سے چار کھلاڑیوں کی سیالکوٹ اسکواڈ میں شمولیت کی امید ہے۔

فرنچائز مالک کا کہنا تھا کہ ٹیم کی ترجیح پاکستان کی موجودہ پلیئنگ الیون کے کھلاڑیوں کو شامل کرنا ہے تاکہ مضبوط اور متوازن اسکواڈ تشکیل دیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیالکوٹ فرنچائز کا فوکس لوکل ٹیلنٹ کو آگے لانا اور انہیں بڑا پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جبکہ سیالکوٹ کے نوجوان کھلاڑیوں کو کارکردگی کی بنیاد پر ٹیم میں شامل کیا جائے گا۔

کپتانی کے حوالے سے حمزہ مجید نے کہا کہ سیالکوٹ ٹیم کا کپتان پاکستانی ہوگا، جبکہ کوچنگ اسٹاف کا انتخاب میرٹ پر کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر معیاری مقامی کوچ دستیاب نہ ہوئے تو غیر ملکی کوچ کی خدمات حاصل کرنے پر بھی غور کیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کیا جائے گا پی ایس ایل کا کہنا

پڑھیں:

جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات

بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔

منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔

بی جے پی حکومت پر سنگین الزامات

منگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔

میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائی

سابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔

امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواست

ممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘  نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔

ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔

دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

مجھے سب کچھ معلوم ہے

اپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔

نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔

مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی