نئی پی ایس ایل ٹیم سیالکوٹ کا کپتان کون ہوگا؟ ممکنہ اسکواڈ سے متعلق اہم خبر آگئی
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے رواں سیزن میں شامل ہونے والی نئی ٹیم سیالکوٹ کے کپتان اور ممکنہ اسکواڈ سے متعلق فرنچائز مالک نے اہم اشارے دے دیے ہیں۔
پی ایس ایل میں اس سال دو نئی ٹیمیں شامل کی گئی ہیں جن میں ایک حیدرآباد جبکہ دوسری سیالکوٹ کے نام سے میدان میں اترے گی جس پر شائقین کرکٹ کی دلچسپی عروج پر ہے۔
سیالکوٹ ٹیم کے اونر حمزہ مجید کا کہنا ہے کہ کپتان اور حتمی اسکواڈ کا فیصلہ 30 جنوری کو ہونے والی کھلاڑیوں کی بڈنگ کے بعد کیا جائے گا، تاہم ٹیم کی حکمت عملی کا خاکہ واضح ہے۔
مزید پڑھیںپی ایس ایل میں شامل ہونے والی 2 نئی ٹیموں کے نام کیا ہیں؟
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس ماہ کے آخر تک پلئیرز ڈرافٹنگ کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔حمزہ مجید نے کہا کہ بابر اعظم کو ٹیم میں شامل کرنا سب کی خواہش ہے۔ ان کا کہنا تھا چھ سے سات آسٹریلین کرکٹرز ڈرافٹنگ کے لیے رجسٹر ہو چکے ہیں جن میں سے تین سے چار کھلاڑیوں کی سیالکوٹ اسکواڈ میں شمولیت کی امید ہے۔
فرنچائز مالک کا کہنا تھا کہ ٹیم کی ترجیح پاکستان کی موجودہ پلیئنگ الیون کے کھلاڑیوں کو شامل کرنا ہے تاکہ مضبوط اور متوازن اسکواڈ تشکیل دیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیالکوٹ فرنچائز کا فوکس لوکل ٹیلنٹ کو آگے لانا اور انہیں بڑا پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جبکہ سیالکوٹ کے نوجوان کھلاڑیوں کو کارکردگی کی بنیاد پر ٹیم میں شامل کیا جائے گا۔
کپتانی کے حوالے سے حمزہ مجید نے کہا کہ سیالکوٹ ٹیم کا کپتان پاکستانی ہوگا، جبکہ کوچنگ اسٹاف کا انتخاب میرٹ پر کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر معیاری مقامی کوچ دستیاب نہ ہوئے تو غیر ملکی کوچ کی خدمات حاصل کرنے پر بھی غور کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کیا جائے گا پی ایس ایل کا کہنا
پڑھیں:
انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔
ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔