ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026: شبمن گل نے اسکواڈ سے ڈراپ ہونے پر بالآخر خاموشی توڑ دی
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارتی ون ڈے ٹیم کے کپتان شبمن گل نے رواں سال ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے اسکواڈ سے باہر کیے جانے پر ردعمل دے دیا ہے۔ حالیہ ٹی ٹوئنٹی سیریز اور ٹورنامنٹس میں ان کی کارکردگی خاطر خواہ نہ رہنے کے باعث ٹیم مینجمنٹ نے ٹیم کمبی نیشن کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں اسکواڈ میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
ان کی جگہ آل راؤنڈر اکشر پٹیل کو ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان سوریا کمار یادیو کا نائب مقرر کیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ون ڈے میچ سے قبل شبمن گل نے کہا کہ وہ سلیکٹرز کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں اور ورلڈ کپ کے لیے ٹیم کو نیک تمناؤں کا پیغام دیتے ہیں۔
شبمن گل کا کہنا تھا کہ وہ اسی مقام پر ہیں جہاں انہیں ہونا چاہیے اور جو کچھ ان کی قسمت میں لکھا ہے، وہ کوئی نہیں چھین سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر کھلاڑی کا مقصد ملک کے لیے بہترین کارکردگی دکھانا ہوتا ہے، جبکہ حتمی فیصلہ کرنا سلیکٹرز کی ذمہ داری ہے، جو وہ اپنی صوابدید کے مطابق کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔