ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026: شبمن گل نے اسکواڈ سے ڈراپ ہونے پر بالآخر خاموشی توڑ دی
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارتی ون ڈے ٹیم کے کپتان شبمن گل نے رواں سال ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے اسکواڈ سے باہر کیے جانے پر ردعمل دے دیا ہے۔ حالیہ ٹی ٹوئنٹی سیریز اور ٹورنامنٹس میں ان کی کارکردگی خاطر خواہ نہ رہنے کے باعث ٹیم مینجمنٹ نے ٹیم کمبی نیشن کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں اسکواڈ میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
ان کی جگہ آل راؤنڈر اکشر پٹیل کو ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان سوریا کمار یادیو کا نائب مقرر کیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ون ڈے میچ سے قبل شبمن گل نے کہا کہ وہ سلیکٹرز کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں اور ورلڈ کپ کے لیے ٹیم کو نیک تمناؤں کا پیغام دیتے ہیں۔
شبمن گل کا کہنا تھا کہ وہ اسی مقام پر ہیں جہاں انہیں ہونا چاہیے اور جو کچھ ان کی قسمت میں لکھا ہے، وہ کوئی نہیں چھین سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر کھلاڑی کا مقصد ملک کے لیے بہترین کارکردگی دکھانا ہوتا ہے، جبکہ حتمی فیصلہ کرنا سلیکٹرز کی ذمہ داری ہے، جو وہ اپنی صوابدید کے مطابق کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔