data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

جدہ (سید مسرت خلیل) وزیرآعلیٰ پنجاب بیگم مریم نواز کی ٹاس فورس کے چیئرپرسن اور صوبائی وزیرِ جیل خانہ جات رانا منان خان عمرہ کی ادائیگی اورمدینہ المنورہ روضئہ المبارک پر حاضری کی سعادت حاصل کرنے کے سعودی عرب تشریف لائے تو مسلم لیگ (ن) سعودی عرب کے رہنماؤں ناراوال پنجاب کی معروف شخصیات چوہدری منیراحمد گجر اور رانا عبداللہ راجپوت کی جانب سے ان کے اعزاز میں لاثانی ریسٹورنٹ مدینہ روڈ میں ایک ُپرتکلف عشائیہ کا اہتمام کیا۔ جس میں مرکزی جنرل سیکرٹری اور فوکل پرسن پرائم منسٹر یوتھ پروگرام ملک منظور حسین اعوان، مسلم لیگ (ن) کے عہدیداران و کارکنان، پاک کمیونٹی کی سرکردہ شخصیات، پاکستان انویسٹر فورم اور میڈیا نمائندگان نے بھرپور شرکت کی۔ مہمانِ خصوصی رانا منان خان نے اپنے اعزاز میں شاندار تقریب کے انعقاد پر ملک منظور حسین، چوہدری منیر گجر اور رانا عبداللہ راجپوت کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے، مہنگائی میں کمی آ رہی ہے اور ترقی و خوشحالی کے اہم منصوبے شروع ہو چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جیلوں میں قیدیوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے اور انہیں ہنرمند بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں، جبکہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے بھی خصوصی اور شاندار منصوبے متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ رانا منان خان نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان روحانی اور لازوال تعلقات کو بھی اجاگر کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملک منظور حسین، چوہدری بلو شیر وڑائچ اور چوہدری منیر گجر نے رانا منان خان کو عمرہ کی سعادت حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کی اور مسلم لیگ (ن) کے لیے ان کی خدمات اور جیل اصلاحات کے اقدامات کو سراہا۔ بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو میں رانا منان خان نے وزیراعلیٰ پنجاب کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں جلد تمام مسائل پر قابو پا لیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا ناراوال اسپورٹس کمپلیکس کی تعمیر مکمل ہوچکی جہاں بیک وقت 14گیمز ہوسکتے ہیں۔ اس عظیم منصوبہ کے لئے انھوں نے وفاقی وزیر احسن اقبال کو خراج تحسین پیش کیا۔قبل ازیں تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کی سعادت ایگزیکیٹو ممبرپاک اوورسیز میڈیا فورم جدہ احمد فواد خان سواتی نے حاصل کی۔ اس موقع پر کیک بھی کاٹا گیا، پاکستان اور سعودی عرب کی ترقی و خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کی گئی اور شرکاء کی پرتکلف عشائیے سے تواضع کی گئی۔ نظامت کے فرائض ملک امجد اعوان نے سرانجام دیئے۔

سید مسرت خلیل گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مسلم لیگ کے لیے

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے