data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ماتلی (جسارت نیوز)اسسٹنٹ کمشنر ماتلی ثوبان احمد رانجھا اور مختیارکار ماتلی مصب جونیجو نے سندھ فوڈ اتھارٹی کی ٹیم کے ہمراہ ماتلی شہر میں مختلف ہوٹلوں، بیکریوں اور سویٹ شاپس کا تفصیلی معائنہ کیا۔معائنے کے دوران المرتضیٰ ہوٹل، بلوچ ہوٹل، فرینڈز بیکری اور قصرِ شیرین سویٹ شاپ کو چیک کیا گیا۔دورانِ معائنہ صفائی کی ناقص صورتحال، کھانا بنانے کے عمل میں حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی، عملے کی جانب سے دستانے اور ہیڈ کور کا استعمال نہ کرنا، تیار شدہ کھانوں کی غیر معیاری پیکنگ، اشیائے خورونوش کو کھلے میں رکھنا، ایکسپائر اور بغیر لیبل فوڈ آئٹمز کی موجودگی سمیت فوڈ سیفٹی قوانین کی متعدد خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔ان خلاف ورزیوں پر متعلقہ ہوٹلوں اور دکانوں پر مجموعی طور پر 35 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا جبکہ کھلے اور غیر معیاری کوکنگ آئل کے کین بھی تحویل میں لے لیے گئے۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ماتلی ثوبان احمد رانجھا نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو معیاری، صاف اور محفوظ خوراک کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی پر آئندہ بھاری جرمانے، دکانوں کی سیلنگ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔مختارکار ماتلی مصب جونیجو نے کہا کہ صفائی اور فوڈ معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ایسے معائنے آئندہ بھی تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گے۔

اسٹاف رپورٹر.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے

کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔ 

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ 

مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • چیئرمین رویت ہلال کمیٹی کا پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس ہیڈکوارٹر کا دورہ، منشیات کے خلاف مشترکہ اقدامات پر اتفاق
  • پی ڈی ایم اے کا دورہ : انتظامیہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہے، خواجہ سلمان رفیق
  • چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں کا امریکہ کی معروف یونیورسٹیوں کا دورہ
  • طلاق کی افواہیں بے بنیاد؟ شہزادی بیٹریس کی شوہر کے ہمراہ نئی خوشگوار تصویر وائرل
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری