Jasarat News:
2026-07-24@03:25:00 GMT

امریکا کے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر بڑے پیمانے پر حملے

اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

 

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور اس کی اتحادی افواج نے شام میں داعش کے اہداف پر بڑے
پیمانے پر حملے کیے ہیں۔ ایکس پر سینٹ کام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنیچر کے روز ان حملوں کی ہدایت کی تھی، جو آپریشن ’ہاک آئی اسٹرائیک‘ کا حصہ ہیں، یہ آپریشن گذشتہ ماہ شام میں امریکی فوج پر حملے کے بعد شروع کیا گیا تھا۔ سینٹ کام کے ایک اہلکار نے بتایا کہ امریکا اور اس کی اتحادی افواج نے ایک آپریشن میں 35 سے زیادہ اہداف پر 90 سے زائد حملے کیے اور ان کارروائیوں میں 20 طیاروں نے حصہ لیا۔حملوں کے مقام اور کسی جانی نقصان کی تفصیلات تاحال ظاہر نہیں کی گئیں۔ خیال رہے کہ 13 دسمبر کو شام کے شہر پالمیرا میں امریکی اور شامی افواج پر داعش کے حملے میں 2 امریکی فوجی اور ایک امریکی شہری مترجم ہلاک ہو گئے تھے۔ سینٹ کام کے مطابق حملے دہشت گردی سے نمٹنے اور خطے میں امریکی اور شراکت دار افواج کے تحفظ کیلیے گئے ہیں، ہمارا پیغام مضبوط ہے کہ اگر آپ ہمارے لوگوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، تو ہم آپ کو دنیا میں کہیں بھی ڈھونڈیں گے اور مار ڈالیں گے، چاہے آپ انصاف سے بچنے کی کتنی ہی کوشش کریں۔

مانیٹرنگ ڈیسک.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سینٹ کام

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی