کراچی میں دہشتگرد عناصر کے منظم جتھے سرگرمِ عمل ہیں‘راجاانصاری
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260112-08-6
کراچی(اسٹاف رپورٹر) ترجمان حکومت پاکستان برائے سندھ راجا انصاری نے اپنے وڈیو بیان میں کہا ہے کہ شہر قائد کراچی کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد عناصر کے منظم جتھے سرگرمِ عمل ہیں، جو نہ صرف عوام الناس کو ہراساں کر رہے ہیں بلکہ شہریوں کی املاک، بالخصوص گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ پولیس اہلکاروں اور میڈیا نمائندگان کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، آج نیوز کی گاڑی پر پتھراؤ کیا گیا جبکہ ایک خاتون صحافی کے زخمی ہونے کا واقعہ آزادی صحافت پر کھلا حملہ اور انتہائی تشویشناک عمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ایک منظم بھارتی ایجنڈے کے تحت پاکستان کے بڑے شہروں میں افراتفری، بدامنی اور انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے، ان سرگرمیوں میں افغان دہشت گرد عناصر کی شمولیت کے شواہد بھی موجود ہیں، جو سیاسی جلوسوں کی آڑ میں کسی بڑے سانحے کی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں، ایسے ریاست دشمن عناصر کو فوری طور پر روکنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ایسے میں ہم سندھ حکومت سے پْرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ، صحافیوں کی سلامتی اور شہر کے امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے فوری، مؤثر اور بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے، تاکہ کراچی کو کسی بھی قسم کی بدامنی اور انتشار سے محفوظ رکھا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک