Express News:
2026-07-24@02:21:24 GMT

معاشی پالیسی فریم ورک تیزی سے اصلاحات کی جانب گامزن

اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT

کراچی:

پاکستان کا معاشی پالیسی فریم ورک بتدریج ایسے شعبہ جاتی اصلاحات کی جانب بڑھ رہا ہے، جن کا مقصد دیرینہ ساختی بگاڑ کو درست کرنا اور معاشی نمو کو بحال کرنا ہے۔

ان اصلاحات میں شوگرسیکٹرکی مرحلہ وار ڈی ریگولیشن، زرعی برآمدات کے لیے جارحانہ حکمتِ عملی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول کی مسلسل کوششیں نمایاں ہیں۔

یہ اقدامات ریاستی کنٹرول پر مبنی نظام سے ہٹ کرمارکیٹ پر مبنی، برآمدات پر مرکوز اورسرمایہ دوست پالیسیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

شوگر سیکٹر طویل عرصے سے حکومتی مداخلت کی علامت رہاہے،جہاں گنے کی سرکاری قیمتیں، درآمد و برآمد پر پابندیاں، ذخائرکی نگرانی اور سبسڈیز معمول کا حصہ تھیں۔

پاکستان بیوروآف شماریات کے مطابق گزشتہ دہائی میں گنے کی پیداوار میں شدیداتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جسکے نتیجے میں چینی کی قلت اور اضافے کے بار بار بحران پیدا ہوئے، جن سے قومی خزانے پر بوجھ پڑا اور کسانوں کو بروقت ادائیگیاں متاثر ہوئیں۔

مزید پڑھیں

ایس آئی ایف سی کی ہم آہنگ حکمتِ عملی سے قومی  معیشت میں مثبت پیش رفت

معاشی استحکام، 2026 ملکی معیشت کے لیے فیصلہ کن سال

حالیہ برسوں میں شوگر سیکٹرکی ڈی ریگولیشن کا مقصد انہی مسائل سے نکلنا ہے۔ برآمدات میں نرمی اور انتظامی کنٹرول میں کمی کے ذریعے حکومت مارکیٹ کے اشاروں کو پیداوار اورقیمتوں کے تعین میں مؤثر بناناچاہتی ہے۔ 

اصلاحات زرعی شعبے کے وسیع تر کردار سے بھی جڑی ہوئی ہیں، جو ملکی جی ڈی پی کا تقریباً 20.

9 فیصد حصہ فراہم کرتا اور 38.5 فیصد افرادی قوت کو روزگار دیتا ہے۔

حکومت اب پراسیسڈ فوڈ، باغبانی، گوشت، ڈیری اورخصوصی فصلوں کے فروغ پرتوجہ دے رہی ہے۔

سرکاری اعداد وشمارکے مطابق مالی سال 24 میں زرعی برآمدات بڑھ کر 3.14 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، غیر ملکی سرمایہ کاری اس تبدیلی میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر شوگر سیکٹر، زرعی برآمدات اور ایف ڈی آئی سے متعلق اصلاحات کو تسلسل، شفافیت اور ادارہ جاتی صلاحیت کے ساتھ نافذ کیا گیا تو یہ پاکستان کی برآمدی کارکردگی بہتر بنانے، بیرونی کھاتوں کو مستحکم کرنے اور پائیدار و جامع معاشی ترقی کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: برا مدات

پڑھیں:

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ

پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا گیا۔ پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لٹر ہو گئی ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا تعین اوگرا کی جانب سے کیا گیا ہے جو آج رات 12 بجے سے کل رات 12 بجے تک نافذ العمل ہوگا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے کا بڑا اضافہ کیا گیا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار