اسلام ٹائمز: جہاں تک حالیہ احتجاجات کا تعلق ہے، تو معاشی مشکلات تقریباً تمام طبقات کو متاثر کر رہی ہیں، تاہم اکثریتی مذہبی طبقہ نظام کی سرنگونی کے بجائے معاشی ریلیف اور بہتری کا خواہاں ہے، اصلاح پسند حلقے پابندیوں کے خاتمے اور خارجہ پالیسی میں لچک کے ذریعے معاشی بہتری چاہتے ہیں، اس کے برعکس ایک محدود مگر منظم طبقہ، جو زیادہ تر سیکولر یا لبرل رجحانات رکھتا ہے، ان معاشی شکایات کو نظام کی تبدیلی کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جسے بیرونی اخلاقی اور ابلاغی حمایت بھی حاصل ہے۔ یہ طبقہ عددی اعتبار سے اقلیت میں ہے، اس لیے محض عوامی احتجاج کے ذریعے اسلامی نظام کا خاتمہ فی الحال ممکن دکھائی نہیں دیتا تجزیہ و تحریر: عرض محمد سنجرانی 

ایران کے بارے میں عالمی اور علاقائی میڈیا میں مسلسل تجزیے سامنے آ رہے ہیں، مگر ان میں ایک نمایاں مسئلہ یہ ہے کہ اکثر تحریریں ایرانی سماج کی اندرونی فکری ساخت اور سیاسی ڈائنامکس سے ناواقفیت کی بنیاد پر لکھی جاتی ہیں، نتیجتاً ایران کو یا تو محض ایک سخت گیر مذہبی ریاست کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، یا پھر ایک ایسے معاشرے کے طور پر جہاں عوام اور ریاست کے درمیان کوئی حقیقی رشتہ باقی نہیں رہا، یہ دونوں بیانیے حقیقت کا جزوی عکس ہیں، مکمل تصویر نہیں، ایران کی اکثریت شیعہ اثنا عشری مسلک سے تعلق رکھتی ہے، جبکہ اہلِ سنت بھی ملک کے بعض حصّوں میں قابلِ ذکر تعداد میں آباد ہیں۔

تاہم ایک بنیادی غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے کہ ایرانی شیعہ معاشرے کو برصغیر کے شیعہ سماج کے مماثل سمجھ لیا جاتا ہے، برصغیر میں شیعہ شناخت عموماً اہلِ بیتؑ سے محبت، عزاداری اور مذہبی شعائر کے ذریعے مجموعی مسلم معاشرت سے کسی نہ کسی سطح پر جڑی رہتی ہے، چاہے فرد کتنا ہی لبرل یا غیر روایتی کیوں نہ ہو، ایران میں یہ صورتِ حال اس سے خاصی مختلف ہے، ایرانی سماج میں فکری اور مذہبی حوالے سے ایک واضح دو انتہاؤں پر مبنی تقسیم پائی جاتی ہے، یا تو لوگ مذہبی ہیں، یا پھر واضح طور پر غیر مذہبی اور اکثر مذہب بیزار۔

پاکستان اور دیگر مسلم معاشروں میں جہاں دین کسی نہ کسی درجے میں اجتماعی زندگی کا لازمی جزو ہے، وہاں مذہب سے مکمل لاتعلقی نسبتاً کم دکھائی دیتی ہے، ایران میں مذہبی شعائر کا احترام تقریباً صرف مذہبی طبقے تک محدود ہے، جبکہ غیر مذہبی طبقہ عموماً مذہب کو ذاتی اور اجتماعی زندگی سے خارج کر چکا ہے، اسی پس منظر میں یہ مفروضہ کہ اگر ایران میں موجودہ اسلامی نظام ختم ہو جائے تو اس کی جگہ کوئی معتدل یا مذہبی شناخت رکھنے والی حکومت قائم ہو جائے گی، زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا، ایران میں مذہبی طبقے کی اکثریت اسلامی نظام کی حامی ہے، جبکہ اس سے ہٹ کر جو قوتیں موجود ہیں وہ زیادہ تر سیکولر، لبرل یا مذہب بیزار رجحانات رکھتی ہیں۔

ایران کو پاکستان یا عراق جیسے معاشروں پر قیاس کرنا ایک بنیادی تجزیاتی غلطی ہے، اگر موجودہ نظام کا خاتمہ ہوتا ہے تو زیادہ قرینِ قیاس منظرنامہ یہ ہوگا کہ ایک واضح طور پر سیکولر، مادر پدر آزاد معاشرہ وجود میں آئے، جس کے مغرب اور بالخصوص اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات ہوں، ایسی صورتِ حال میں مذہب ایک فعال سماجی قوت کے بجائے محض ثقافتی شناخت تک محدود ہو سکتا ہے، جبکہ اسلامی شعائر کی سماجی حیثیت شدید دباؤ کا شکار ہو جائے گی، بعض حالیہ مظاہروں کے دوران مذہبی مقامات کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات اس رجحان کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں۔

اگر ایران کی فکری و سماجی ڈیموگرافی کو دیکھا جائے تو اسے چار بڑے طبقات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، اوّل، وہ مذہبی طبقہ جو اسلامی نظام کا حامی ہے اور عملاً ریاستی و سماجی سطح پر کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، دوم، وہ مذہبی افراد جو اسلامی نظام کو اصولی طور پر تسلیم کرتے ہیں لیکن موجودہ رہبرِ انقلاب سے سیاسی اختلاف رکھتے ہیں، سوم، وہ مذہبی افراد جو اسلامی حکومت یا نظریۂ ولایتِ فقیہ کو قبول نہیں کرتے، مگر ذاتی سطح پر مذہب سے وابستہ رہتے ہیں، چہارم، وہ غیر مذہبی یا مذہب بیزار طبقہ جو سیکولر یا ملحدانہ رجحانات رکھتا ہے، عمومی اندازوں کے مطابق آبادی کا بڑا حصّہ پہلے طبقے سے تعلق رکھتا ہے، جبکہ باقی آبادی دیگر طبقات میں تقسیم ہے۔

یہی پہلا طبقہ اس وقت ایران میں سیاسی اور ادارہ جاتی سطح پر فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے، یہ مذہبی حامی طبقہ خود سیاسی اعتبار سے دو دھڑوں میں منقسم ہے، قدامت پسند اور اصلاح پسند، قدامت پسند موجودہ نظام کو مکمل طور پر درست سمجھتے ہیں، رہبر کے اختیارات کو جائز قرار دیتے ہیں، اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف سخت خارجہ پالیسی کے حامی ہیں، اس کے برعکس اصلاح پسند مذہب اور انقلاب اسلامی سے وابستگی رکھتے ہوئے نظام میں اصلاح، اختیارات کی غیر مرکزیت، منتخب اداروں کے کردار میں اضافہ، اور عالمی برادری کے ساتھ بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں، ایران کی عملی سیاست انہی دو دھاروں کے گرد گھومتی ہے، دونوں آیت اللہ خامنہ ای کو رہبر تسلیم کرتے ہیں، اور ریاستی نظام کے اندر رہتے ہوئے تبدیلی یا تسلسل کی نمائندگی کرتے ہیں۔

جہاں تک حالیہ احتجاجات کا تعلق ہے، تو معاشی مشکلات تقریباً تمام طبقات کو متاثر کر رہی ہیں، تاہم اکثریتی مذہبی طبقہ نظام کی سرنگونی کے بجائے معاشی ریلیف اور بہتری کا خواہاں ہے، اصلاح پسند حلقے پابندیوں کے خاتمے اور خارجہ پالیسی میں لچک کے ذریعے معاشی بہتری چاہتے ہیں، اس کے برعکس ایک محدود مگر منظم طبقہ، جو زیادہ تر سیکولر یا لبرل رجحانات رکھتا ہے، ان معاشی شکایات کو نظام کی تبدیلی کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جسے بیرونی اخلاقی اور ابلاغی حمایت بھی حاصل ہے۔

یہ طبقہ عددی اعتبار سے اقلیت میں ہے، اس لیے محض عوامی احتجاج کے ذریعے اسلامی نظام کا خاتمہ فی الحال ممکن دکھائی نہیں دیتا، البتہ بیرونی مداخلت کے ذریعے عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں ایک مستقل خطرہ بنی ہوئی ہیں، ایران کو سمجھنے کے لیے جذباتی نعروں یا سطحی تجزیوں کے بجائے اس کے سماجی تنوّع، فکری تقسیم اور سیاسی حقیقت کو پیشِ نظر رکھنا ناگزیر ہے، بصورتِ دیگر ہر تجزیہ حقیقت کے بجائے خواہشات کی عکاسی ہی کرتا رہے گا

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسلامی نظام اصلاح پسند ایران میں ایران کی کرتے ہیں کے ذریعے کے بجائے رکھتا ہے نظام کی نظام کا

پڑھیں:

جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات

بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔

منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔

بی جے پی حکومت پر سنگین الزامات

منگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔

میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائی

سابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔

امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواست

ممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘  نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔

ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔

دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

مجھے سب کچھ معلوم ہے

اپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔

نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔

مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار

متعلقہ مضامین

  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی