کراچی میں دہشتگرد عناصر کے منظم جتھے سرگرمِ عمل ہیں‘راجاانصاری
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر) ترجمان حکومت پاکستان برائے سندھ راجا انصاری نے اپنے وڈیو بیان میں کہا ہے کہ شہر قائد کراچی کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد عناصر کے منظم جتھے سرگرمِ عمل ہیں، جو نہ صرف عوام الناس کو ہراساں کر رہے ہیں بلکہ شہریوں کی املاک، بالخصوص گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ پولیس اہلکاروں اور میڈیا نمائندگان کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، آج نیوز کی گاڑی پر پتھراؤ کیا گیا جبکہ ایک خاتون صحافی کے زخمی ہونے کا واقعہ آزادی صحافت پر کھلا حملہ اور انتہائی تشویشناک عمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ایک منظم بھارتی ایجنڈے کے تحت پاکستان کے بڑے شہروں میں افراتفری، بدامنی اور انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے، ان سرگرمیوں میں افغان دہشت گرد عناصر کی شمولیت کے شواہد بھی موجود ہیں، جو سیاسی جلوسوں کی آڑ میں کسی بڑے سانحے کی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں، ایسے ریاست دشمن عناصر کو فوری طور پر روکنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ایسے میں ہم سندھ حکومت سے پْرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ، صحافیوں کی سلامتی اور شہر کے امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے فوری، مؤثر اور بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے، تاکہ کراچی کو کسی بھی قسم کی بدامنی اور انتشار سے محفوظ رکھا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔