سنجھورو،گیس کی طویل لوڈشیڈنگ ،شہریوں کو پریشانی کا سامنا
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260112-05-19
سنجھورو(نمائندہ جسارت)سنجھورو میں سوئی گیس کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، شہری شدید مشکلات کا شکار طلبا بنا ناشتے اسکول جانے پر مجبور تفصیلات کے مطابق سنجھورو میں سوئی گیس کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہو گیا ہے، جس کے باعث شہریوں کو کھانے پکانے سمیت روزمرہ امور میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور گیس نہ ھونے کی وجہ سے اسکول کے طلباء بنا ناشتے کے اسکول جانے لگے ہیں اس سلسلے میں شہریوں کا کہنا ہے کہ گیس خاص طور پر صبح اور شام کے اوقات میں بند کر دی جاتی ہے، جو کہ کھانا پکانے کا اہم وقت ہوتا ہے۔شہریوں نے متعدد بار سوئی سدرن گیس کی انتظامیہ اور متعلقہ حکام کو شکایات درج کروائیں، تاہم تاحال کوئی خاطر خواہ شنوائی نہیں ہو سکی۔ شہریوں کے مطابق سانگھڑ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں قدرتی گیس اور تیل وافر مقدار میں پیدا ہو رہا ہے، اس کے باوجود مقامی آبادی کو گیس جیسی بنیادی سہولت سے محروم رکھا جانا سمجھ سے بالاتر ہے۔خواتین کا کہنا ہے کہ گیس کی بندش کے باعث انہیں لکڑی، سلنڈر یا دیگر مہنگے متبادل ذرائع استعمال کرنا پڑ رہے ہیں، جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ شہریوں نے شکایت کی کہ گیس بل مکمل وصول کیے جا رہے ہیں مگر سہولت فراہم نہیں کی جا رہی۔سنجھورو کی عوام نے وفاقی وزیرِ پیٹرولیم، سوئی سدرن گیس کی اعلیٰ انتظامیہ اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے سنجھورو میں غیر اعلانیہ گیس لوڈشیڈنگ بند کی جائے اور شہریوں کو بلا تعطل گیس کی فراہمی یقینی بنائی جائے، بصورت دیگر عوام احتجاج پر مجبور ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گیس کی
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔