Jasarat News:
2026-06-03@04:52:31 GMT

اسرائیل میں 45 برس قید کاٹنے والے فلسطینی سے ملاقات

اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

(3)
نائل البرغوثی جب پینتالیس برس بعد قید سے باہر آئے تو صرف ایک فرد آزاد نہیں ہوا تھا، بلکہ ایک پورا زمانہ جیل کی دیواروں سے باہر قدم رکھ رہا تھا۔ وہ خود کہتے ہیں کہ دنیا بدل چکی ہے اور شاید یہی تبدیلی سب سے زیادہ حیران کن ہے۔ ’’میں جس دنیا میں گیا تھا، وہ سادہ تھی۔ لوگ ایک دوسرے سے خط لکھ کر بات کرتے تھے۔ آج سب کچھ اسکرین پر سمٹ گیا ہے،‘‘ وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں۔ موبائل فون ان کے لیے ایک نیا تجربہ ہے۔ وہ اب بھی سیکھ رہے ہیں کہ اسے کیسے استعمال کیا جائے، پیغامات کیسے پڑھے جائیں، تصاویر کیسے دیکھی جائیں۔ بعض اوقات وہ ہنستے ہوئے اعتراف کرتے ہیں کہ ایک بٹن دبانے سے ڈر لگتا ہے۔ ’’جیل میں وقت رکا رہتا ہے، مگر باہر دنیا دوڑ رہی ہے،‘‘ انہوں نے ایک لمحے کو رک کر کہا۔ اسی قید کے دوران برغوثی نے ایمان نافی سے شادی کی، جو خود ایک سابق قیدی رہ چکی تھی۔ یہ بھی مزاحمت کی ایک صورت تھی۔ ان کے درمیان کبھی ازدواجی تعلقات قائم نہیں ہوسکے۔ ایمان ان کو خطوط، تصویریں اور پیغامات بھیجتی تھی۔ ’’میری بیوی مجھے ہر روز فلسطین کے گلی کوچوں کی تصویریں بھیجتی تھیں، تاکہ میں جڑا رہوں‘‘۔ ان کے نزدیک محبت جیل میں بقا ہے۔ جیل میں قیدی کے پاس آیا خط چھوٹی چیز نہیں ہوتی ہے۔ انہوں نے درد کے ساتھ مرحوم فلسطینی ادیب ولید دقہ کا ذکر کیا، جنہیں اسرائیلی قید میں اپنی بیوی یا بیٹی کو گلے لگانے کا حق نہ ملا۔ ’’ہمیں جس چیز نے سنبھالا وہ تھی کہ باہر کوئی ہم سے محبت کرتا ہے اور ہمارے دکھوں کا ساتھی ہے،‘‘ برغوثی نے کہا۔ ’’ہمیں رومیو اور جولیٹ کی ضرورت نہیں۔ ہمارے پاس ایسی ہزاروں کہانیاں ہیں‘‘۔

نائل البرغوثی جب نو عمری میں جیل میں چلے گئے تو تعلیم کا سلسلہ چھوٹ گیا تھا۔ مگر جب 2002 میں فلسطینی لیڈر مروان برغوثی کو پابند سلاسل کرکے عمر قید کی سزا سنائی گئی، تو انہوں نے جیل میں بند دیگر فلسطینیوں کو مطالعہ کی ترغیب دی۔ اس کے نتیجے میں نائل برغوثی بھی خاصے وسیع المطالعہ ہیں۔ وہ عربی کے علاوہ عبرانی اور انگریزی روانی سے بولتے ہیں اور عالمی تاریخ سے واقف ہیں۔ ہماری گفتگو میں انہوں نے برصغیر کی تاریخ کا ذکر کیا۔ انہوں نے مہاتما گاندھی، محمد علی جناح، جواہر لعل نہرو، ابوالکلام آزاد اور مولانا محمد علی جوہر کو پڑھا ہے۔ کشمیر کا ذکر آیا تو اس کی تاریخ کے ساتھ انہوں نے شیخ عبداللہ اور سید علی شاہ گیلانی جیسے رہنمائوں کا حوالہ بھی دیا۔ جب میں نے پوچھا کہ یہ وسعت کیسے حاصل ہوئی، تو وہ مسکرائے۔ ’’جیل نے ہمیں پڑھنے دیا،‘‘ انہوں نے کہا۔ وہ اس کے لیے مروان برغوثی کو کریڈٹ دیتے ہیں کہ انہوں نے فلسطینی قیدیوں کو تعلیم کی طرف راغب کیا۔ ’’ہمیں معلوم تھا کہ ہماری تعلیم شاید باہر کی دنیا کو فائدہ نہ دے سکے، کیونکہ ہماری قسمت میں تو جیل ہی میں مر جانا لکھا تھا۔ مگر ہمیں یہ یقین تھا کہ ہم اللہ کے پاس جاہل نہیں، باخبر ہو کر جائیں گے‘‘۔

برغوثی کی گفتگو میں کسی قسم کی تلخی یا شکست کا احساس نہیں تھا، حالانکہ ان کی زندگی کا بڑا حصہ سلاخوں کے پیچھے گزر گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ قید نے ان سے بہت کچھ چھینا، مگر سب کچھ نہیں۔ ’’انہوں نے میرا وقت لیا، مگر میرا شعور نہیں لے سکے،‘‘ وہ پرسکون انداز میں کہتے ہیں۔ آزادی کے بعد جب وہ لوگوں سے ملتے ہیں تو اکثر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ ہجوم، گاڑیوں کا شور اور تیز رفتار زندگی بعض اوقات انہیں تھکا دیتی ہے۔ ’’جیل میں خاموشی ہوتی ہے، باہر شور ہے‘‘۔ وہ کہتے ہیں، ’’اس شور کو سمجھنے میں وقت لگے گا‘‘۔ فروری 2025 میں غزہ جنگ بندی سے منسلک قیدی تبادلے کے تحت برغوثی کو رہا کردیا گیا۔ مگر جب فہرست میں ان کا نام آیا تو اسرائیل نے شرط رکھی کہ انہیں فلسطینی علاقوں میں رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہیں جلا وطن کیا جائے گا۔ ابتدا میں جب جیل میں بتایا گیا کہ رہائی کے فوراً بعد انہیں مصر بھیج دیا جائے گا، تو انہوں نے رہا ہونے سے انکار کر دیا۔ ’’قید جلاوطنی سے کم تلخ ہے‘‘، انہوں نے کہا۔ مگر ثالثوں کے دبائو میں انہوں نے رہائی قبول کی، کیونکہ خدشہ تھا کہ اگر مذاکرات ٹوٹ گئے تو غزہ کی امداد یا دوسرے قیدیوں کی رہائی متاثر ہوگی۔ ’’یہ موت کے پروانے جیسا تھا‘‘، انہوں نے کہا۔ انہیں اپنی زمین، اپنے گھر اور اپنے زیتون کے درختوں سے جدا کر کے قاہرہ بھیج دیا گیا۔

دہائیوں کے تشدد سے تھکا ہوا جسم کئی بیماریوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔ اب وہ ترکیہ میں علاج کرا رہے ہیں۔ دائمی درد، پرانی چوٹیں اور وہ بیماریاں جو جیل کی دیواروں کے اندر خاموشی سے جمع ہوتی رہیں، اب انہیں ستا رہی ہیں۔ اس کے باوجود ان کا یقین قائم ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی جدوجہد ختم نہیں ہوئی۔ ’’میں زندہ ہوں، یہی مزاحمت ہے‘‘۔ وہ نوجوان فلسطینیوں کو دیکھتے ہیں تو ان میں خود کو پہچانتے ہیں۔ انہیں خوف ہے کہ نئی نسل جیلوں، ناکوں اور جنگ کی نفسیات میں کہیں تھک نہ جائے۔ ’’اصل قید دیواروں کی نہیں، ناامیدی کی ہوتی ہے‘‘، وہ کہتے ہیں۔ نائل البرغوثی جانتے ہیں کہ واپسی کا خواب آسان نہیں، مگر وہ اسے ترک بھی نہیں کرتے۔ ’’جلاوطنی عارضی ہوتی ہے، یادداشت مستقل‘‘، وہ کہتے ہیں۔ ان سے بات چیت کرتے ہوئے وقت گزرنے کا احساس نہیں ہوا۔ کئی لوگ اردگرد جمع ہوگئے تھے جو ان کا ہاتھ چھونا چاہتے تھے، جیسے یہ یقین کرنا چاہتے ہوں کہ وہ واقعی قید سے باہر ہیں۔ نائل البرغوثی پینتالیس برس بعد جیل سے باہر آئے، مگر جیل، اس کی تاریکی، اس کی گواہی اور اس کے بے جواب سوال، سب ان کے ساتھ ہی باہر آئے۔ وہ اقبال کے اس شعر کی ایک عملی تفسیر معلوم ہو رہے تھے: یقین محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں۔

افتخار گیلانی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نائل البرغوثی وہ کہتے ہیں انہوں نے سے باہر جیل میں ہوتی ہے ہیں کہ نے کہا

پڑھیں:

بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔

اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔

مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU

— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔

ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔

انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا