اسرائیل میں 45 برس قید کاٹنے والے فلسطینی سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
(3)
نائل البرغوثی جب پینتالیس برس بعد قید سے باہر آئے تو صرف ایک فرد آزاد نہیں ہوا تھا، بلکہ ایک پورا زمانہ جیل کی دیواروں سے باہر قدم رکھ رہا تھا۔ وہ خود کہتے ہیں کہ دنیا بدل چکی ہے اور شاید یہی تبدیلی سب سے زیادہ حیران کن ہے۔ ’’میں جس دنیا میں گیا تھا، وہ سادہ تھی۔ لوگ ایک دوسرے سے خط لکھ کر بات کرتے تھے۔ آج سب کچھ اسکرین پر سمٹ گیا ہے،‘‘ وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں۔ موبائل فون ان کے لیے ایک نیا تجربہ ہے۔ وہ اب بھی سیکھ رہے ہیں کہ اسے کیسے استعمال کیا جائے، پیغامات کیسے پڑھے جائیں، تصاویر کیسے دیکھی جائیں۔ بعض اوقات وہ ہنستے ہوئے اعتراف کرتے ہیں کہ ایک بٹن دبانے سے ڈر لگتا ہے۔ ’’جیل میں وقت رکا رہتا ہے، مگر باہر دنیا دوڑ رہی ہے،‘‘ انہوں نے ایک لمحے کو رک کر کہا۔ اسی قید کے دوران برغوثی نے ایمان نافی سے شادی کی، جو خود ایک سابق قیدی رہ چکی تھی۔ یہ بھی مزاحمت کی ایک صورت تھی۔ ان کے درمیان کبھی ازدواجی تعلقات قائم نہیں ہوسکے۔ ایمان ان کو خطوط، تصویریں اور پیغامات بھیجتی تھی۔ ’’میری بیوی مجھے ہر روز فلسطین کے گلی کوچوں کی تصویریں بھیجتی تھیں، تاکہ میں جڑا رہوں‘‘۔ ان کے نزدیک محبت جیل میں بقا ہے۔ جیل میں قیدی کے پاس آیا خط چھوٹی چیز نہیں ہوتی ہے۔ انہوں نے درد کے ساتھ مرحوم فلسطینی ادیب ولید دقہ کا ذکر کیا، جنہیں اسرائیلی قید میں اپنی بیوی یا بیٹی کو گلے لگانے کا حق نہ ملا۔ ’’ہمیں جس چیز نے سنبھالا وہ تھی کہ باہر کوئی ہم سے محبت کرتا ہے اور ہمارے دکھوں کا ساتھی ہے،‘‘ برغوثی نے کہا۔ ’’ہمیں رومیو اور جولیٹ کی ضرورت نہیں۔ ہمارے پاس ایسی ہزاروں کہانیاں ہیں‘‘۔
نائل البرغوثی جب نو عمری میں جیل میں چلے گئے تو تعلیم کا سلسلہ چھوٹ گیا تھا۔ مگر جب 2002 میں فلسطینی لیڈر مروان برغوثی کو پابند سلاسل کرکے عمر قید کی سزا سنائی گئی، تو انہوں نے جیل میں بند دیگر فلسطینیوں کو مطالعہ کی ترغیب دی۔ اس کے نتیجے میں نائل برغوثی بھی خاصے وسیع المطالعہ ہیں۔ وہ عربی کے علاوہ عبرانی اور انگریزی روانی سے بولتے ہیں اور عالمی تاریخ سے واقف ہیں۔ ہماری گفتگو میں انہوں نے برصغیر کی تاریخ کا ذکر کیا۔ انہوں نے مہاتما گاندھی، محمد علی جناح، جواہر لعل نہرو، ابوالکلام آزاد اور مولانا محمد علی جوہر کو پڑھا ہے۔ کشمیر کا ذکر آیا تو اس کی تاریخ کے ساتھ انہوں نے شیخ عبداللہ اور سید علی شاہ گیلانی جیسے رہنمائوں کا حوالہ بھی دیا۔ جب میں نے پوچھا کہ یہ وسعت کیسے حاصل ہوئی، تو وہ مسکرائے۔ ’’جیل نے ہمیں پڑھنے دیا،‘‘ انہوں نے کہا۔ وہ اس کے لیے مروان برغوثی کو کریڈٹ دیتے ہیں کہ انہوں نے فلسطینی قیدیوں کو تعلیم کی طرف راغب کیا۔ ’’ہمیں معلوم تھا کہ ہماری تعلیم شاید باہر کی دنیا کو فائدہ نہ دے سکے، کیونکہ ہماری قسمت میں تو جیل ہی میں مر جانا لکھا تھا۔ مگر ہمیں یہ یقین تھا کہ ہم اللہ کے پاس جاہل نہیں، باخبر ہو کر جائیں گے‘‘۔
برغوثی کی گفتگو میں کسی قسم کی تلخی یا شکست کا احساس نہیں تھا، حالانکہ ان کی زندگی کا بڑا حصہ سلاخوں کے پیچھے گزر گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ قید نے ان سے بہت کچھ چھینا، مگر سب کچھ نہیں۔ ’’انہوں نے میرا وقت لیا، مگر میرا شعور نہیں لے سکے،‘‘ وہ پرسکون انداز میں کہتے ہیں۔ آزادی کے بعد جب وہ لوگوں سے ملتے ہیں تو اکثر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ ہجوم، گاڑیوں کا شور اور تیز رفتار زندگی بعض اوقات انہیں تھکا دیتی ہے۔ ’’جیل میں خاموشی ہوتی ہے، باہر شور ہے‘‘۔ وہ کہتے ہیں، ’’اس شور کو سمجھنے میں وقت لگے گا‘‘۔ فروری 2025 میں غزہ جنگ بندی سے منسلک قیدی تبادلے کے تحت برغوثی کو رہا کردیا گیا۔ مگر جب فہرست میں ان کا نام آیا تو اسرائیل نے شرط رکھی کہ انہیں فلسطینی علاقوں میں رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہیں جلا وطن کیا جائے گا۔ ابتدا میں جب جیل میں بتایا گیا کہ رہائی کے فوراً بعد انہیں مصر بھیج دیا جائے گا، تو انہوں نے رہا ہونے سے انکار کر دیا۔ ’’قید جلاوطنی سے کم تلخ ہے‘‘، انہوں نے کہا۔ مگر ثالثوں کے دبائو میں انہوں نے رہائی قبول کی، کیونکہ خدشہ تھا کہ اگر مذاکرات ٹوٹ گئے تو غزہ کی امداد یا دوسرے قیدیوں کی رہائی متاثر ہوگی۔ ’’یہ موت کے پروانے جیسا تھا‘‘، انہوں نے کہا۔ انہیں اپنی زمین، اپنے گھر اور اپنے زیتون کے درختوں سے جدا کر کے قاہرہ بھیج دیا گیا۔
دہائیوں کے تشدد سے تھکا ہوا جسم کئی بیماریوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔ اب وہ ترکیہ میں علاج کرا رہے ہیں۔ دائمی درد، پرانی چوٹیں اور وہ بیماریاں جو جیل کی دیواروں کے اندر خاموشی سے جمع ہوتی رہیں، اب انہیں ستا رہی ہیں۔ اس کے باوجود ان کا یقین قائم ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی جدوجہد ختم نہیں ہوئی۔ ’’میں زندہ ہوں، یہی مزاحمت ہے‘‘۔ وہ نوجوان فلسطینیوں کو دیکھتے ہیں تو ان میں خود کو پہچانتے ہیں۔ انہیں خوف ہے کہ نئی نسل جیلوں، ناکوں اور جنگ کی نفسیات میں کہیں تھک نہ جائے۔ ’’اصل قید دیواروں کی نہیں، ناامیدی کی ہوتی ہے‘‘، وہ کہتے ہیں۔ نائل البرغوثی جانتے ہیں کہ واپسی کا خواب آسان نہیں، مگر وہ اسے ترک بھی نہیں کرتے۔ ’’جلاوطنی عارضی ہوتی ہے، یادداشت مستقل‘‘، وہ کہتے ہیں۔ ان سے بات چیت کرتے ہوئے وقت گزرنے کا احساس نہیں ہوا۔ کئی لوگ اردگرد جمع ہوگئے تھے جو ان کا ہاتھ چھونا چاہتے تھے، جیسے یہ یقین کرنا چاہتے ہوں کہ وہ واقعی قید سے باہر ہیں۔ نائل البرغوثی پینتالیس برس بعد جیل سے باہر آئے، مگر جیل، اس کی تاریکی، اس کی گواہی اور اس کے بے جواب سوال، سب ان کے ساتھ ہی باہر آئے۔ وہ اقبال کے اس شعر کی ایک عملی تفسیر معلوم ہو رہے تھے: یقین محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نائل البرغوثی وہ کہتے ہیں انہوں نے سے باہر جیل میں ہوتی ہے ہیں کہ نے کہا
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔