سندھ بلڈنگ، ماڈل کالونی غیر قانونی تعمیرات کی آماج گاہ بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
اسسٹنٹ ڈائریکٹر ذوالفقار بلیدی کی خاندان کے نام پر جائیدادیں اور دھندلاتی منی ٹریل
پلاٹ نمبر 12/50، 13/38پر بغیر نقشے اور منظوری کے تعمیرات کی چھوٹ، خطیر رقم ہڑپ
ضلع کورنگی کا گنجان آباد علاقہ ماڈل کالونی، غیرقانونی تعمیرات کی آماجگاہ بنا ہوا ہے ۔ یہاں پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے بعض افسران کی سرپرستی میں بنائی گئی عمارتیں، بلڈنگ قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرتی نظر آتی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایسے ہی ایک بااثر افسر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ذوالفقار علی بلوچ (عرف بلیدی) پر الزام ہے کہ وہ طویل عرصے سے "بلڈنگ مافیا” کو کھلی چھٹی دیتے رہے ہیں۔ماڈل کالونی میں بغیر منظورشدہ نقشوں، اضافی منزلوں اور غیرقانونی بیسمنٹس کی تعمیر اب معمول بن چکی ہے ۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ سندھ بلڈنگ کنٹرول ایکٹ 1979 اور کراچی بلڈنگ ریگولیشنز کی صریح خلاف ورزی ہے ۔ حیران کن بات یہ ہے کہ متعلقہ اداروں کی جانب سے اس پر کوئی مؤثر کارروائی نظر نہیں آتی، جو سوالات کو اور گہرا کرتی ہے ۔جرأت سروے کے دوران حاصل کی گئی زیر نظر تصاویر میں زمینی حقائق کے مطابق پلاٹ نمبر 12/50اور 13/38پر بغیر نقشوں اور دستاویزات کے خطیر رقم بٹورنے کے بعد خلاف ضابطہ تعمیرات جاری ہیں ،ذرائع کے مطابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر ذوالفقار علی بلوچ کے اثاثے ان کے سرکاری عہدے اور ممکنہ آمدن سے کہیں زیادہ ہیں۔ ان کے نام پر کورنگی کی جعفر طیار ہاؤسنگ سوسائٹی میں مکان نمبر 594/8اور بحریہ ٹاؤن کے پریسینٹ 19، ٹاور 20 میں واقع اپارٹمنٹ نمبر 50شامل ہیں۔مزید انکشاف یہ ہے کہ قیمتی گاڑیاں اور دیگر لگژری آئٹمز بھی ان کے پاس موجود ہیں۔ اطلاعات کے مطابق کچھ اثاثے مبینہ طور پر خاندان کے افراد کے نام منتقل کیے گئے ہیں، جس سے منی ٹریل کو دھندلانے اور تحقیقات سے بچنے کی کوشش کی گئی ہوگی۔یہ معاملہ محض غیرقانونی تعمیرات تک محدود نہیں رہا۔ اب اس میں آمدن سے زائد اثاثے ، منی لانڈرنگ کے شبہات، اختیارات کے ناجائز استعمال اور عہدے کا غلط استعمال جیسے سنگین الزامات شامل ہو چکے ہیں۔ یہ معاملہ اینٹی کرپشن سندھ اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے ) کے دائرہ کار میں آتا ہے ۔شہری اور قانونی حلقوں کی جانب سے فوری اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ، تاکہ اس گٹھ جوڑ کو بے نقاب کیا جا سکے اور قانون کی بالادستی قائم ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
دبئی: یو اے ای ویزا آن ارائیول سے متعلق متحدہ عرب امارات نے نئی شرائط، فیس اور درخواست کے طریقہ کار کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ نئی ہدایات کے تحت مخصوص ممالک کے اہل شہری امارات پہنچنے پر 14 یا 60 روزہ ویزا حاصل کر سکیں گے، تاہم اس کے لیے مقررہ شرائط پر پورا اترنا لازمی ہوگا۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق بھارت، انڈونیشیا، ویتنام، تھائی لینڈ، فلپائن، کینیا اور جنوبی افریقہ کے شہری، اور ان کے ہمراہ سفر کرنے والے اہل خانہ، اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق درخواست گزار کے پاس کم از کم چھ ماہ کے لیے کارآمد پاسپورٹ، سفید پس منظر والی حالیہ رنگین تصویر اور امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، جنوبی کوریا یا سنگاپور کی جانب سے جاری کردہ قابل قبول رہائشی پرمٹ یا ویزا ہونا ضروری ہے۔
اعلامیے کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کو صرف ایک مرتبہ مزید 14 دن کے لیے توسیع دی جا سکتی ہے، جبکہ 60 روزہ ویزا میں توسیع کی سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔
جی ڈی آر ایف اے نے بتایا کہ ویزا کے لیے درخواست اس کی سرکاری ویب سائٹ یا اسمارٹ ایپ کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہے۔ درخواست کی منظوری کے بعد ویزا رجسٹرڈ ای میل پر ارسال کیا جائے گا، جبکہ عام طور پر درخواستوں پر 48 گھنٹوں کے اندر کارروائی مکمل کر لی جاتی ہے۔
فیس کے حوالے سے جاری تفصیلات کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کی فیس 172.50 درہم جبکہ 60 روزہ ویزا کی فیس 422.50 درہم مقرر کی گئی ہے۔
جی ڈی آر ایف اے کا کہنا ہے کہ اس سہولت کا مقصد بین الاقوامی مسافروں کے لیے سفری عمل کو مزید آسان بنانا، سیاحت کو فروغ دینا اور زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو متحدہ عرب امارات کی جانب راغب کرنا ہے۔
ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران اس پروگرام کے تحت 73 ہزار 551 ویزے جاری کیے جا چکے ہیں، جو اس سہولت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اہم وضاحت: جاری کردہ شرائط میں پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز شامل نہیں ہیں۔ یہ سہولت صرف ان مخصوص ممالک کے شہریوں کے لیے ہے جن کا جی ڈی آر ایف اے نے اعلان کیا ہے۔