بنگلہ دیش نے امریکا کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ غزہ میں تعینات کی جانے والی بین الاقوامی استحکامی فورس میں شمولیت کا خواہاں ہے۔

بنگلہ دیش کے مطابق، قومی سلامتی کے مشیر خلیل الرحمان نے واشنگٹن میں امریکی سفارت کاروں ایلیسن ہوکر اور پال کپور سے ملاقات کی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا سے تجارتی مذاکرات، بنگلہ دیش کے لیے نئے مواقعوں کے امکانات روشن

بنگلہ دیشی حکومت کے ایک بیان میں کہا گیا کہ خلیل الرحمان نے اصولی طور پر غزہ میں تعینات ہونے والی بین الاقوامی استحکامی فورس کا حصہ بننے میں بنگلہ دیش کی دلچسپی کا اظہار کیا۔

Bangladesh has informed the United States that it wants to join the international stabilization force proposed for deployment in Gaza, the government said on Saturday.

The announcement came after a meeting in Washington between Bangladesh’s National Security Adviser, Khalilur… pic.twitter.com/ZBXzeveUjP

— Quds News Network (@QudsNen) January 11, 2026

تاہم بیان میں مجوزہ کردار یا شمولیت کی نوعیت اور حد کی وضاحت نہیں کی گئی۔ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے اس پر فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

گزشتہ برس نومبر کے وسط میں منظور کی گئی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کے تحت ایک نام نہاد بورڈ آف پیس اور اس کے ساتھ کام کرنے والے ممالک کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ غزہ میں ایک عارضی بین الاقوامی استحکامی فورس قائم کریں، جہاں اکتوبر میں جنگ بندی کا آغاز ہوا تھا۔

جنگ بندی اب تک اپنے پہلے مرحلے سے آگے نہیں بڑھ سکی اور آئندہ اقدامات پر بھی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا کا بنگلہ دیش کی ’انقلابی حکومت‘ کیساتھ ملکر کام کرنیکا عندیہ

جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک 400 سے زائد فلسطینیوں اور 3 اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں، جبکہ غزہ کی 20 لاکھ سے زائد آبادی تقریباً مکمل طور پر عارضی گھروں یا تباہ شدہ عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہے۔

یہ آبادی ایک محدود علاقے میں محصور ہے جہاں سے اسرائیلی فوج پیچھے ہٹ چکی ہے اور حماس نے دوبارہ کنٹرول قائم کر لیا ہے۔

اسرائیل اور حماس دونوں جنگ بندی کے اگلے مرحلے کے لیے درکار مشکل اقدامات پر ایک دوسرے سے خاصے فاصلے پر ہیں اور ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:بنگلہ دیشی وزیراعظم کا امریکا پر رجیم چینج کی کوشش کا الزام

2023 کے اواخر سے غزہ پر اسرائیلی فوجی حملوں میں کئی ہزار افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، شدید غذائی بحران پیدا ہو چکا ہے اور غزہ کی پوری آبادی بے گھر ہو گئی ہے۔

متعدد انسانی حقوق کے ماہرین، اسکالرز اور اقوام متحدہ کی ایک تحقیق کے مطابق یہ کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں۔

تاہم اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات 2023 میں حماس کے حملے کے بعد اپنے دفاع میں کیے گئے، جس میں لگ بھگ 1,200 اسرائیلی شہری ہلاک ہوئے تھے اور 250 سے زائد کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل اقوام متحدہ امریکا بنگلہ دیش جنگ بندی حماس خلیل الرحمان غزہ قومی سلامتی محکمہ خارجہ نسل کشی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل اقوام متحدہ امریکا بنگلہ دیش خلیل الرحمان قومی سلامتی بنگلہ دیش

پڑھیں:

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے  ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔

کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان