امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں کے تناظر میں مختلف ممکنہ فوجی اور غیر فوجی اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔

سی این این کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کو حالیہ دنوں میں ایران کے خلاف مداخلت کے مختلف منصوبوں پر بریفنگ دی گئی، جن میں تہران کی اُن سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے آپشنز بھی شامل ہیں جو مظاہروں کو دبانے میں استعمال ہو رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: ایران میں احتجاجی مظاہرے جاری: امریکا اور اسرائیل فسادات کرا رہے ہیں، عوام دور رہیں، صدر مسعود پزشکیان

صدر ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ ایران نے ہفتے کے روز مذاکرات کے لیے رابطہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت امریکا سے بات چیت چاہتی ہے اور ان کی سب سے بڑی تشویش مظاہرین کے خلاف تشدد ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مظاہرین کے قتل کا سلسلہ جاری رہا تو امریکا انتہائی سخت آپشنز پر فیصلہ کر سکتا ہے، تاہم ایران میں زمینی افواج بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

حکام کے مطابق انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ براہِ راست فوجی حملے الٹا اثر ڈال سکتے ہیں اور ایرانی عوام حکومت کے حق میں متحد ہو سکتے ہیں، جبکہ ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کا بھی امکان ہے۔ اسی لیے فوجی کارروائی کے علاوہ سائبر حملوں، نئی پابندیوں اور ایرانی انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کو توڑنے کے لیے اسٹارلنک جیسی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے آپشنز بھی زیر غور ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا نے حملہ کیا تو اسرائیل اور امریکی اڈے محفوظ نہیں رہیں گے، ایران کی ٹرمپ کو دھمکی

دوسری جانب ایران کے سخت گیر پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے فوجی مداخلت کی تو امریکی فوجی اڈے اور تجارتی مراکز ایران کے جائز اہداف ہوں گے۔ صدر ٹرمپ نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ایرانی حملے کا جواب بے مثال شدت سے دیا جائے گا۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق گزشتہ 15 دنوں میں ایران میں کم از کم 490 مظاہرین ہلاک اور 10 ہزار سے زائد افراد گرفتار ہو چکے ہیں، تاہم ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں۔ صورتحال پر امریکا، اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران تشدد تہران حملہ مظاہرے.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا ایران تہران حملہ مظاہرے ایران میں

پڑھیں:

بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا

اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان