مظاہروں کے دوران امریکا ایران کیخلاف فوجی اقدامات پر غور کررہا ہے، سی این این کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں کے تناظر میں مختلف ممکنہ فوجی اور غیر فوجی اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔
سی این این کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کو حالیہ دنوں میں ایران کے خلاف مداخلت کے مختلف منصوبوں پر بریفنگ دی گئی، جن میں تہران کی اُن سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے آپشنز بھی شامل ہیں جو مظاہروں کو دبانے میں استعمال ہو رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ایران میں احتجاجی مظاہرے جاری: امریکا اور اسرائیل فسادات کرا رہے ہیں، عوام دور رہیں، صدر مسعود پزشکیان
صدر ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ ایران نے ہفتے کے روز مذاکرات کے لیے رابطہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت امریکا سے بات چیت چاہتی ہے اور ان کی سب سے بڑی تشویش مظاہرین کے خلاف تشدد ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مظاہرین کے قتل کا سلسلہ جاری رہا تو امریکا انتہائی سخت آپشنز پر فیصلہ کر سکتا ہے، تاہم ایران میں زمینی افواج بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں۔
حکام کے مطابق انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ براہِ راست فوجی حملے الٹا اثر ڈال سکتے ہیں اور ایرانی عوام حکومت کے حق میں متحد ہو سکتے ہیں، جبکہ ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کا بھی امکان ہے۔ اسی لیے فوجی کارروائی کے علاوہ سائبر حملوں، نئی پابندیوں اور ایرانی انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کو توڑنے کے لیے اسٹارلنک جیسی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے آپشنز بھی زیر غور ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا نے حملہ کیا تو اسرائیل اور امریکی اڈے محفوظ نہیں رہیں گے، ایران کی ٹرمپ کو دھمکی
دوسری جانب ایران کے سخت گیر پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے فوجی مداخلت کی تو امریکی فوجی اڈے اور تجارتی مراکز ایران کے جائز اہداف ہوں گے۔ صدر ٹرمپ نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ایرانی حملے کا جواب بے مثال شدت سے دیا جائے گا۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق گزشتہ 15 دنوں میں ایران میں کم از کم 490 مظاہرین ہلاک اور 10 ہزار سے زائد افراد گرفتار ہو چکے ہیں، تاہم ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں۔ صورتحال پر امریکا، اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ایران تشدد تہران حملہ مظاہرے.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ایران تہران حملہ مظاہرے ایران میں
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔