موضوع: وینزو یلا میں امریکی بدمعاشی، برسر اقتدار صدر کا اغوا.. ایران میں فساد کی کوششیں
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
تجزیہ ایک ایسا پروگرام ہے جس میں تازہ ترین مسائل کے بارے میں نوجوان نسل اور ماہر تجزیہ نگاروں کی رائے پیش کی جاتی ہے۔ آپکی رائے اور مفید تجاویز کا انتظار رہتا ہے۔ یہ پروگرام ہر اتوار کے روز اسلام ٹائمز پر نشر کیا جاتا ہے۔ متعلقہ فائیلیںتجزیہ انجم رضا کے ساتھ
موضوع: وینزوئلا میں امریکی بدمعاشی برسر اقتدار صدر کا اغوا
مہمان تجزیہ نگار: سید ناصر عباس شیرازی ) سربراہ سینٹر فار پاک گلف اسٹڈیز، مرکزی رہنما ایم ڈبلیو ایم)
میزبان: سید انجم رضا
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
خلاصہ گفتگو و اہم نکات
امریکہ نے نام نہاد مہذب عالمی سماج کو تباہ کردیا ہے
وینزویلا پہ جارحیت اور صدر کا اغوا امریکی بدمعاشی کا صرف ٹریلر ہے
انسانی حقوق، باہمی احترام،جمہوریت، آزادی، ریاستوں اور قوموں کا تشخص کا لحاظ جیسی اقدارامریکہ نے برباد کردی ہیں
دنیا کو تہذیب یافتہ بنانے کا جھوٹا دعوی کرنے والےیورپ اور امریکہ کے جھوٹے نعروں کی قلعی کھل گئی ہے
غزہ جنگ نے امریکہ و یورپ کی منافقت آشکار کردی ہے
یورپ اور امریکہ نے اپنے مفادات کو بچانے کی قیمت پہ سب اعلی اقدار کو سولی پہ چڑھادیا ہے
دوسرا بڑا خوفناک مرحلہ عالمی قوانین کی بربادی و تباہ کاری ہے
یورپ ، مغربی دنیا اور امریکہ کو لیڈ کرنے والا احمق صدر جب کہتا ہے جو میں کہوں گا وہ قانون ہوگا یہ خوفناک رویہ ہے
امریکہ طاقت کی زبان کو کو حق ماننے والا عفریت بن چکا ہے
صرف تیسری دنیا اور مسلم ممالک پہ امریکہ دانت گاڑے نہیں کھڑا
امریکہ اب کینیڈا اور گرین لینڈ پہ بھی قبضے کی ہوس کا مدعی بن گیا ہے
لاطینی امریکہ کے ممالک میں وینزویلا پہ جارحیت تو امریکی عالمی بدمعاشی کا فقط آغاز ہے
امریکی سینٹرز بھی امریکہ کی بہیمیت کے خوفناک مضمرات پہ بول اٹھے ہیں
امریکی بدمعاشی کا خمیازہ صرف تیسری دنیا اور ایشیا کو ہی نہیں یورپ کو بھی بھگتا پڑے گا
ٹرمپ کے بیانات ظاہر کررہے ہیں کہ امریکہ خوف کی بنا پہ ایسی بدمعاشی کررہا ہے
امریکہ نے ماضی میں بھی لاطینی امریکہ مسسلسل جارحیت اور مداخلت کو اپنا وطیرہ بنایا ہوا تھا
ویزویلا میں امریکی مداخلت پہ روس اور چین کا ردعمل فوری تو بہت نارمل ہے لیکن مستقبل میں رول پلے ادا کرنے کی توقع ہے
حقیقت تو ہے کہ عالمی سطح پہ امریکی نظام مسلسل تنزل کی طرف جارہا ہے
امریکہ کی دشمنی سے زیادہ اس کی دوستی خطرناک ثابت ہوتی ہے
جمہوری اسلامی ایران کو بھی امریکی دھمکیاں ہمیشہ کی طرح ناکام ثابت ہونگیں
ماضی کا تاریخ بھی گواہ ہے کہ جمہوری اسلامی ایران کے غیور عوام نے بھی امریکی مداخلت کو ناپسند کیا ہے
ہر مملکت اور نظام کی طرح جمہوری اسلامی ایران میں بھی ریاست مخالف افراد موجود ہیں جو امریکی و صیہونی آلہ کار بن جاتے ہیں
ایران میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے عوامی تحریک تھی جسے رہبر معظم اور صدر نے بھی تسلیم کیا
مگر تشدد آمیز فسادات لوگوں کو قتل کرنا اور ، مساجد و مقدس مقامات کو آگ لگانا بلوہ گیری ہے
جمہوری اسلامی ایران کے عوام اور عوامی املاک کو نقصان پہنچا کر فسادی عناصر انتشار برپا کرنے کی ناکام کوششیں کرتے رہے ہیں
ایران میں مہنگائی کا طوفان مسسلسل امریکی پابندیوں کی بنا پہ آیا ہے
امریکہ کی جارحیت کا نشانہ ایران کی حکومت کے بجائے ایرانی عوام بن رہے ہیں
ایران کے غیور عوام سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل ان کے واضح دشمن ہیں
ایران کی عوام کی امریکی آلہ کاروں کی بلوہ گیری سے لاتعلقی ہی اس کی حقیقت کو آشکار کررہی ہے
مٹھی بھر شر پسند عناصر شناخت ہورہے ہیں کہ وہ صیہونی آلہ کار ایجنٹ ہیں
انقلاب اسلامی ابھی اپنا حقیقی رنگ دکھائے گا
دنیا امریکہ کے انسان کش چہرے کو پہچان چکی ہے
حکومت اسلامی اور انقلاب اسلامی کے خلاف امریکی و صیہونی سازشیں امریکی استعمار کے تابوت میں کیل ثابت ہوگی
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جمہوری اسلامی ایران امریکی بدمعاشی امریکہ نے ہے امریکہ ایران میں ہیں ایران
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔