لاہور (خصوصی نامہ نگار) دارالعلوم جامعہ نعیمیہ میں مفتی محمدحسین نعیمی اورڈاکٹرسرفراز نعیمی شہید کی یاد میں منعقدہ سالانہ’’مفتی اعظم پاکستان سیمینار‘‘ میں علماء کرام نے مطالبہ ہے کہ فتنہ خوراج کے خاتمے تک آپریشنز جاری رکھے جائیں۔ ملکی سالمیت، امن و امان اور ریاستی اداروں کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔ دہشت گرد عناصر اسلام اور پاکستان دونوں کے دشمن ہیں۔ علماء کرام نے خوارج کے نظریات کو گمراہ کن اور نوجوانوں کے لئے کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے دینی مدارس اور علماء کو دعوت دی کہ وہ معاشرے میں فکری رہنمائی کا کردار ادا کریں۔ سیمینار سے چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی، پیر احسان حسیب الرحمان، سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر محمد احسان بھٹہ، مفتی محمد رمضان سیالوی، ڈاکٹر طاہر رضا بخاری و دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔ سیمینار میں شیخ الحدیث مفتی عبدالعلیم سیالوی، مفتی انورالقادی، مولانا غلام نصیرالدین چشتی، ڈاکٹر ارشد اقبال نعیمی، مفتی انتخاب احمد نوری، مفتی قیصر شہزاد نعیمی، سمیت مختلف تعلیمی اداروں کے سربراہان، اساتذہ، جامعہ نعیمیہ کے ساتذہ وطلبہ، نعیمین ایسوسی ایشن کے مرکزی صوبائی عہدیداوں سمیت اعوام الناس کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ سیمنیار سے خطبہ استقبالیہ دیتے ہوئے چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈ اکٹر راغب حسین نعیمی نے کہا اسلام ایک پرامن دین ہے، اور اس کے نام پر خون ریزی کرنے والے خوارج اسلام کے دشمن ہیں۔ ریاست پاکستان ان کے خلاف جو آپریشن کر رہی ہے، ہم اس کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ آپریشنز خوارج کے مکمل خاتمے تک جاری رہیں۔ ممبر اسلامی نظریاتی کونسل پیر احسان حسیب الرحمان نقشبندی نے کہاکہ فِتنہ الخوارج نے جہاد کے مقدس تصور کو مسخ کر کے مسلمانوں کے خلاف خونریزی کے جواز کے طور پر استعمال کیا ہے، سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ نے علماء کرام کومعاشرے میں قوم یکجہتی کے پیغام عام کرنا ہوگا۔ مفتی رمضان سیالوی نے کہاکہ دنیا کی بڑی طاقتیں کمزور ممالک کے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ سمینار سے اختتام پر ملک وقوم کی سلامتی کیلئے خصوصی دعاکرائی گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: علماء کرام

پڑھیں:

کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک

ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار  تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا  تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار