لاہور میں گیس لیکج کے باعث دھماکا، چھ افراد جھلس گئے
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
لاہور میں اٹاری دربار کے قریب گیس لیکج کے باعث دھماکا ہو گیا جس سے چھ افراد زخمی ہوگئے۔ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت کے فیروزپور روڈ پراٹاری دربار کے قریب گھر میں گیس لیکج سے دھماکا ہوا ہے، دھماکے کے باعث آگ لگنے سے 6 افراد جھلس کر زخمی ہوگئے، گھر کے کمرے میں گیس لیکج تھی، ہیٹر جلانے سےدھماکا ہوا، زخمی افراد کو جنرل ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ دوسری جانب پاکپتن کے علاقے چک شفیع میں سلنڈر ری فلنگ کےدوران دھماکا ہوا، جس سےدکان کی چھت اڑگئی، بجلی کے تار بھی ٹوٹ گئے، دکان میں آگ بھڑک اٹھی، ریسکیو نے آگ پر قابو پالیا۔ یاد رہے کہ ایک روز قبل گیس لیکج کے دھماکے سے اسلام آباد میں شادی کا گھر ماتم کدے میں تبدیل ہو گیا، دولہا دلہن سمیت 8 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ خیال رہے کہ گیس سلنڈر اور گیس لیکج دھماکوں کے گزشتہ تین سال کے دوران صرف پنجاب میں 488 واقعات ہوئے جن میں 25 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں،لیکن آج بھی متعلقہ اداروں کی غفلت اور لاپرواہی کے باعث کئی مقامات پر سلنڈرز کی غیر محفوظ موجودگی اور ری فلنگ جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔