لاہور (نوائے وقت رپورٹ) وزیراعلی پنجاب مریم نوازشریف نے نئے ہسپتالوں کی جلد تکمیل کا حکم دے دیا۔نوازشریف کینسر ہسپتال،لاہور میں جناح اورسرگودھا میں نوازشریف کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹس سمیت دیگرکی جلد تکمیل کی ڈیڈ لائن مقررکردی گئی۔وزیراعلی مریم نوازشریف نے لاہور میں نوازشریف کینسراورجناح کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ کو اسی ماہ اوپن کرنے کی ہدایت کی۔نوازشریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ سنٹر کے بیسمنٹ‘ گراؤنڈ فلور مریضوں کے لئے ویٹنگ ایریا/سرائے،مسجداور ڈاکٹرز کی رہائش گاہیں مکمل کر لی گئی ہیں۔پاکستان کے پہلے نوازشریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈریسرچ سنٹر کا اسی ماہ آغازہوگا ۔نوازشریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ سنٹرمیں ڈاکٹرزاورپروفیشنل سٹاف کی بھرتیاں شروع کردی گئی۔نوازشریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ کی 219 آسامیوں کے لئے انٹرویو بھی کئے جا رہے ہیں ۔نوازشریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ سنٹرکے سربراہ کی تعیناتی کیلئے آسامی دوبارہ مشتہر کرنے کا فیصلہ کیاگیاہے۔لاہور میں جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے آغاز کے لئے 31جنوری کی ڈیڈ لائن دے دی گئی۔وزیراعلی مریم نوازشریف نے لیڈی ولنگڈن ہسپتال کی تعمیر نوبھی جلد ازجلد مکمل کرنے کاحکم دے دیا۔وزیراعلی مریم نوازشریف نے کہاکہ نوازشریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ سنٹر میں پاکستان بھر سے آنے والے ہرکینسر مریض کا علاج ہوگا۔ دریں اثناء وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے 11بھارتی حمایت یافتہ خوارج ہلاک کرنے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیاہے۔وزیراعلی مریم نوازشریف نے کہاکہ دہشتگرد ی میں ملوث افراد کسی رعایت کے مستحق نہیں۔پاکستانی قوم دہشتگردی کے خاتمے کے عزم پر یکسو ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: وزیراعلی مریم نوازشریف نے

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار