لاہور ہائی کورٹ: آوارہ کتوں پر فائرنگ اور زہر دینے کیخلاف درخواست سماعت کے لیے منظور
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
لاہور ہائی کورٹ نے آوارہ کتوں کو فائرنگ اور زہر کے ذریعے مارنے کے خلاف دائر درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔
عدالت نے پنجاب حکومت، سیکرٹری لائیوسٹاک، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ سمیت دیگر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ جسٹس خالد اسحاق نے عزت فاطمہ ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائر درخواست پر سماعت کی۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ آوارہ کتوں کے نام پر آپریشن سے شہریوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: کراچی میں آوارہ کتوں کا راج، حفاظتی اقدامات کیا ہو سکتے ہیں اور حکومت کیا کر رہی ہے؟
درخواست میں خانیوال میں ڈاگ کلنگ آپریشن کے دوران گولی لگنے سے کمسن بچی کے زخمی ہونے کا واقعہ بھی اجاگر کیا گیا۔ مزید کہا گیا کہ رہائشی علاقوں میں فائرنگ اور زہریلی اشیا کا استعمال خطرے سے خالی نہیں۔
درخواست میں یہ بھی موقف اختیار کیا گیا کہ پنجاب حکومت اینیمل برتھ کنٹرول پالیسی 2021 پر عملدرآمد نہیں کر رہی۔ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ آوارہ کتوں کو فائرنگ اور زہر کے ذریعے مارنے سے روکے اور ویکسینیشن و نیوٹرنگ پالیسی پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آوارہ کتے استدعا درخواست لاہور ہائیکورٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آوارہ کتے درخواست لاہور ہائیکورٹ آوارہ کتوں فائرنگ اور
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔