تاریخ خود کو دہراتی ہے، ٹرمپ کا انجام بھی ظالم حکمرانوں جیسا ہوگا: آیت اللہ خامنہ ای
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ غرور اور طاقت کے نشے میں مبتلا حکمرانوں کا انجام تاریخ میں سب کے سامنے ہے، اور ٹرمپ کے ساتھ بھی وہی ہوگا جو فرعون، نمرود اور رضا شاہ کے ساتھ ہوا۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ ایک ایسا شخص جو تکبر میں ڈوبا ہوا ہے، پوری دنیا کے فیصلے کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اسے یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ اقتدار کے عروج پر موجود طاقتور حکمران آخر کس انجام سے دوچار ہوئے۔
سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم، غرور اور جبر پر قائم نظام زیادہ دیر نہیں چلتے، چاہے وہ کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ فرعون، نمرود اور رضا شاہ کو بھی اپنے وقت میں ناقابلِ شکست سمجھا جاتا تھا، مگر انجام سب کے سامنے ہے۔
ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا اور اسرائیل پر ایران میں بدامنی اور فسادات کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا ہے۔ ایرانی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل لوگوں کو پیغامات دے رہے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں، جاؤ تخریب کاری کرو، یہی وہ قوتیں ہیں جنہوں نے ایران پر حملے بھی کیے۔
ایرانی صدر نے واضح کیا کہ کسی غیر ملکی طاقت کو ایران کے اندر انتشار اور فساد پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ریاست اس طرح کی سازشوں کا بھرپور جواب دے گی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران مذاکرات کرنا چاہتا ہے اور ملاقات کے انتظامات کیے جا رہے ہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے خلاف انتہائی طاقتور آپشنز پر غور جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔