بلیوبیری یا امرود: وٹامن سی کا اصل پاور ہاؤس کونسا پھل ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
وٹامن سی انسانی صحت کے لیے نہایت اہم غذائی جز ہے جو قوتِ مدافعت، جِلد کی صحت اور جسمانی تندرستی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ اینٹی آکسیڈنٹ کے طور پر زندہ خلیات کو نقصان سے بچاتا ہے اور زخم بھرنے میں مدد دیتا ہے۔
ماہرینِ غذائیت کے مطابق بلیوبیریز کو صحت بخش سمجھا جاتا ہے مگر ان میں وٹامن سی کی مقدار صرف 9.
غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ 100 گرام امرود میں تقریباً 222 ملی گرام وٹامن سی موجود ہوتا ہے۔ امرود ناصرف وٹامن سی سے بھرپور ہے بلکہ فائبر، وٹامن اے اور فولک ایسڈ کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔
یہ قوتِ مدافعت بڑھانے، نظامِ ہاضمہ بہتر بنانے، جِلد اور بینائی کی صحت، حمل کے دوران خلیاتی نشوونما اور وزن کنٹرول میں مدد دیتا ہے۔
دوسری جانب بلیوبیریز اینٹی آکسیڈنٹس خاص طور پر اینتھوسائننز (Anthocyanins) ( پانی میں گھل جانے والے رنگ) سے بھرپور ہوتی ہیں جو سوزش کم کرنے، دل اور دماغ کی صحت بہتر بنانے اور انسولین حساسیت بڑھانے میں معاون سمجھا جاتا ہے۔
امریکی محکمۂ زراعت اور نیشنل لائبریری آف میڈیسن کی جانب سے کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق وٹامن سی کے معاملے میں امرود تمام پھلوں پر سبقت رکھتا ہے حتیٰ کہ اس میں لیموں اور مالٹے سے بھی زیادہ وٹامن سی پایا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ وٹامن سی کے حصول کے لیے امرود بہترین انتخاب ہے تاہم مجموعی صحت کے لیے امرود اور بلیوبیریز دونوں کو متوازن مقدار میں غذا کا حصہ بنانا بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ