لاہور میں گیس لیکج کے باعث دھماکا، 8 افراد جھلس گئے
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک) لاہور میں اٹاری دربار کے قریب گیس لیکج کے باعث دھماکا ہو گیا جس سے 8 افراد زخمی ہوگئے۔
ریسکیو ترجمان کے مطابق فیروزپور روڈ پراٹاری دربار کے قریب گھر میں گیس لیکج سے دھماکا ہوا ہے، دھماکے کے باعث آگ لگنے سے 8 افراد جھلس کر زخمی ہوگئے۔
بتایا گیا ہے کہ گھر کے کمرے میں گیس لیکج تھی، ہیٹر جلانے سے دھماکا ہو گیا، تمام زخمی افراد کو جنرل ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
دوسری جانب پاکپتن کے علاقے چک شفیع میں سلنڈر ری فلنگ کےدوران دھماکا ہوا، جس سےدکان کی چھت اڑگئی، بجلی کے تار بھی ٹوٹ گئے، دکان میں آگ بھڑک اٹھی، ریسکیو نے آگ پر قابو پالیا۔
یاد رہے کہ ایک روز قبل گیس لیکج کے دھماکے سے اسلام آباد میں شادی کا گھر ماتم کدے میں تبدیل ہو گیا، دولہا دلہن سمیت 8 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
خیال رہے کہ گیس سلنڈر اور گیس لیکج دھماکوں کے گزشتہ تین سال کے دوران صرف پنجاب میں 488 واقعات ہوئے جن میں 25 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں،لیکن آج بھی متعلقہ اداروں کی غفلت اور لاپرواہی کے باعث کئی مقامات پر سلنڈرز کی غیر محفوظ موجودگی اور ری فلنگ جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔