ایمان مزاری کو متنازع ٹویٹ کیس میں عدالت سے ریلیف مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
متنازع ٹویٹ کیس میں ایمان مزاری کو عدالت نے ریلیف دے دیا۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹویٹ کیس کی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے کی۔ سماعت کے موقع پر ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش ہوئے جب کہ ایمان مزاری پیش نہیں ہوئیں۔
دورانِ سماعت عدالت کو آگاہ کرتے ہوئے ہادی علی چٹھہ نے بتایا کہ ایمان مزاری کو 104 بخار ہے جس کی وجہ سے وہ عدالت میں پیش نہیں ہو سکتیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں خود بھی بخار ہے لیکن وہ اس لیے عدالت آئے ہیں تاکہ یہ نہ لگے کہ وہ بہانہ کر رہے ہیں۔
جج محمد افضل مجوکہ نے ہدایت دی کہ ایمان مزاری کی حاضری سے استثنا کی درخواست دائر کی جائے، جس کے بعد عدالت نے تحریری درخواست آنے تک سماعت میں وقفہ کر دیا۔
وقفے کے بعد کیس کی دوبارہ سماعت ہوئی تو ہادی علی چٹھہ کی جانب سے ایمان مزاری کی حاضری سے استثنا کی تحریری درخواست دائر کی گئی، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔ بعد ازاں عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹویٹ کیس کی سماعت 14 جنوری تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف این سی سی آئی اے نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: متنازع ٹویٹ کیس کہ ایمان مزاری ہادی علی چٹھہ عدالت نے
پڑھیں:
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں، عوام کی غیرمتزلزل حمایت کے ساتھ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی، عدم استحکام اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مسلح افواج عوام کی یک جہتی اور ثابت قدمی کے ساتھ ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل، محب وطن، باصلاحیت اور باہمت عوام سے مالا مال ہے، جو بلوچستان کی اصل طاقت ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اور جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جن کا مقصد صوبے کی تقدیر بدلنا ہے۔
انہوں نے قومی یک جہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے قومی اتحاد، استقلال اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں تقریب کے اختتام پر شرکا کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی، امن اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔