قومی اسمبلی کا اجلاس آج شام ہوگا، 27 نکاتی ایجنڈا جاری
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
قومی اسمبلی کا اجلاس آج شام 5 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت منعقد ہوگا۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق اجلاس کے لیے 27 نکاتی ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے، جس کے تحت مختلف متعدد اہم آرڈیننس اور بل ایوان میں پیش کیے جائیں گے۔
اجلاس کے دوران ملک میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد ساڑھے 3 لاکھ سے تجاوز کرنے کے سنگین معاملے پر بھی بحث متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عامر ڈوگر کی اسپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات، اپوزیشن لیڈر کی تقرری پر امور پر تبادلہ خیال
جس میں حکومتی اقدامات اور مستقبل کی حکمت عملی پر ایوان کو آگاہ کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ مردان میں ریلوے کی زمین غیر قانونی طور پر الاٹ کیے جانے کے معاملے پر توجہ دلاؤ نوٹس بھی پیش کیا جائے گا۔
دوسری جانب اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پارلیمانی رہنماؤں کا ایک مشاورتی اجلاس بھی آج طلب کر لیا ہے۔
مزید پڑھیں: اسپیکر قومی اسمبلی کی سیاسی کشیدگی میں کمی کے لیے کردار ادا کرنے کی پیشکش
مذکورہ مشاورتی اجلاس شام 4 بجے اسپیکر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوگا۔
اس مشاورتی اجلاس میں قومی اسمبلی کے 23ویں اجلاس کی کارروائی کو احسن طریقے سے چلانے سے متعلق امور زیر غور آئیں گے۔
مشاورتی اجلاس میں شرکت کے لیے تمام پارلیمانی جماعتوں کے سربراہان کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آرڈیننس اسپیکر ایجنڈا ایڈز بل پارلیمنٹ ہاؤس توجہ دلاؤ نوٹس ریلوے سردار ایاز صادق سیکریٹریٹ قومی اسمبلی مردان مریض مشاورتی اجلاس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا رڈیننس اسپیکر ایجنڈا ایڈز پارلیمنٹ ہاؤس توجہ دلاؤ نوٹس ریلوے سردار ایاز صادق سیکریٹریٹ قومی اسمبلی مشاورتی اجلاس مشاورتی اجلاس قومی اسمبلی کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔