اسٹاک مارکیٹ میں پیر کے روز دباؤ، انڈیکس 924 پوائنٹس نیچے چلا گیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کے روز ابتدائی کاروباری اوقات میں شدید دباؤ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں 100 انڈیکس 900 سے زائد پوائنٹس گر گیا۔
صبح 9:35 بجے مارکیٹ میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 183,485.48 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو کہ 924.19 پوائنٹس یعنی 0.50 فیصد کمی ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخی بلندی کا ملک کی معیشت سے کتنا تعلق ہے؟
اہم شعبوں میں شیئرز کی فروخت کا دباؤ رہا، جن میں گاڑیوں کی اسمبلی، سیمنٹ، کیمیکل، کمرشل بینکس، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، آئل مینوفیکچرنگ کمپنیز، بجلی پیدا کرنے والے ادارے اور ریفائنریز شامل ہیں۔
تاہم میزان بینک، ایس ایس جی سی، پاکستان اسٹیٹ آئل، پاکستان پیترولیم لمیٹڈ ماری، او جی ڈی سی، حبکو اور یونائیٹڈ بینک سمیت بڑے انڈیکس ہیوی اسٹاکس سبز زون میں ٹریڈ ہوئے۔
Market is down at midday ????
⏳ KSE 100 is negative by -221.
— Investify Pakistan (@investifypk) January 12, 2026
گزشتہ ہفتے پاکستان کے ایکوئٹی مارکیٹ میں مضبوط اوپر کی جانب رجحان رہا۔ ملکی سرمایہ کاری کی مسلسل خریداری، مالیاتی پالیسی میں نرمی اورعالمی سطح پر حوصلہ افزا عوامل نے سرمایہ کاروں کے جذبات کو تقویت دی اور انڈیکس کو واضح طور پر بلند کیا۔
کے ایس ای 100 انڈیکس نے ہفتہ وار بنیاد پر 5,375 پوائنٹس یا 3 فیصد اضافہ کرتے ہوئے 184,410 پوائنٹس پر بند ہوا، جس سے سال 2026 کے آغاز میں بھی مثبت رجحان جاری رہا۔
مزید پڑھیں: ’ایلیٹ کیپچر‘ پاکستانی معیشت کو کھربوں روپوں کا نقصان پہنچا رہا ہے، آئی ایم ایف
عالمی سطح پر امریکی ڈالر کی قیمت کم ہوئی اور امریکی اسٹاک فیوچرز میں بھی کمی دیکھی گئی، جب فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول نے کہا کہ سابقہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے انہیں مجرمانہ الزامات کی دھمکی دی، جس سے سرمایہ کاروں میں خدشات پیدا ہوئے کہ مرکزی بینک کی آزادی متاثر ہو سکتی ہے۔
ایس اینڈ پی 500 فیوچرز 0.5 فیصد نیچے آئے جبکہ یورپی فیوچرز ایشیا کی صبح میں 0.1 فیصد کم ہوئے۔ امریکی ڈالر نے دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں تقریباً 0.2 فیصد کمی دیکھی، جس کے نتیجے میں یہ 158 ین سے نیچے اور یورو کے مقابلے میں $1.1660 پر پہنچ گیا۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ یہ خبر غیر یقینی صورتحال پیدا کرتی ہے، تاہم فوری طور پر سود کی شرحوں پر اس کا اثر واضح نہیں ہے۔
10 سالہ امریکی ٹریژری فیوچرز میں 3 ٹِکس کا اضافہ ہوا، جس کے مطابق سود کی متوقع شرح 4.15 فیصد رہی، جو جمعہ کی مارکیٹ کلوز سے ایک بیسس پوائنٹ کم ہے۔
فیڈ فنڈ فیوچرز میں اس سال مزید تقریباً 3 بیسس پوائنٹس کمی کی توقع شامل کی گئی ہے، جو چھوٹی تبدیلی ہے لیکن اس سے خدشہ ظاہر ہوتا ہے کہ فیڈ مزید جارحانہ رویہ اختیار کرسکتا ہے۔
مزید پڑھیں: پلاسٹک کے نوٹ کن ممالک میں استعمال ہوتے ہیں، ان کا فائدہ کیا ہے؟
اس دوران سونے کی قیمت ریکارڈ سطح $4,600 فی اونس سے تجاوز کر گئی، جبکہ ایران میں غیر یقینی صورتحال نے قیمتی دھات اور تیل کی قیمتوں کو بڑھاوا دیا۔
پاول نے اتوار کے روز کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے انہیں مجرمانہ الزامات کی دھمکی دی اور کانگریس میں دیے گئے بیان کے حوالے سے گرینڈ جیوری سبپوناز جاری کیے،
جسے پاول نے مرکزی بینک پر سود کی شرح کم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش قرار دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹاک فیوچرز اسٹاک مارکیٹ ایران پاکستان سونے کی قیمت شیئرز فیڈرل ریزرو گرینڈ جیوری
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹاک فیوچرز اسٹاک مارکیٹ ایران پاکستان سونے کی قیمت فیڈرل ریزرو گرینڈ جیوری
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔