ایران کو امریکی دھمکیاں نئی بات نہیں، یہ ان کی پرانی خصلت ہے، علامہ افضل حیدری
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
جامعہ المنتظر لاہور میں علماء کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وفاق المدارس الشیعہ کے جنرل سیکرٹری کا کہنا تھا کہ انقلاب اسلامی کی بنیاد کمزور نہیں کہ مہنگائی کے خلاف چند مظاہروں سے حکومت تبدیل ہو جائے، بہت جلد امریکی اسرائیلی ایجنٹوں کے خواب چکنا چور ہو جائیں گے۔ اسلام ٹائمز، وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ محمد افضل حیدری نے کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کی ایران کو دھمکیاں اور گیڈر بھبکیاں کوئی نئی بات نہیں، ان کی یہ خصلت خبیثہ پرانی ہے۔ بانی انقلاب اسلامی امام خمینی رحمة اللہ علیہ کے افکار کے مطابق اسلامی جمہوری کے معاملات جاری ہیں۔ انقلاب اسلامی کی بنیاد اتنی کمزور نہیں کہ مہنگائی کے خلاف چند مظاہروں سے حکومت تبدیل ہو جائے، یا صفوی بادشاہت بحال ہو جائے، اس لیے بہت جلد امریکی اسرائیلی ایجنٹوں اور تکفیری خارجی گروہ کے خواب چکنا چور ہوں گے۔ علماء سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا تہران میں مظاہروں پر 95 فیصد کنٹرول ہو چکا ہے، پاسداران انقلاب اسلامی نے واضح کر دیا ہے کہ مظاہرین احتجاج ضرور کریں لیکن انقلاب اسلامی ریڈ لائن ہے، اس لیے رجیم چینج کا پرانا امریکی خواب چکنا چوٹ ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انقلاب اسلامی
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔