Jasarat News:
2026-07-24@08:13:25 GMT

اسرائیل میں 45 برس قید کاٹنے والے فلسطینی سے ملاقات

اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260112-03-3
(3)
نائل البرغوثی جب پینتالیس برس بعد قید سے باہر آئے تو صرف ایک فرد آزاد نہیں ہوا تھا، بلکہ ایک پورا زمانہ جیل کی دیواروں سے باہر قدم رکھ رہا تھا۔ وہ خود کہتے ہیں کہ دنیا بدل چکی ہے اور شاید یہی تبدیلی سب سے زیادہ حیران کن ہے۔ ’’میں جس دنیا میں گیا تھا، وہ سادہ تھی۔ لوگ ایک دوسرے سے خط لکھ کر بات کرتے تھے۔ آج سب کچھ اسکرین پر سمٹ گیا ہے،‘‘ وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں۔ موبائل فون ان کے لیے ایک نیا تجربہ ہے۔ وہ اب بھی سیکھ رہے ہیں کہ اسے کیسے استعمال کیا جائے، پیغامات کیسے پڑھے جائیں، تصاویر کیسے دیکھی جائیں۔ بعض اوقات وہ ہنستے ہوئے اعتراف کرتے ہیں کہ ایک بٹن دبانے سے ڈر لگتا ہے۔ ’’جیل میں وقت رکا رہتا ہے، مگر باہر دنیا دوڑ رہی ہے،‘‘ انہوں نے ایک لمحے کو رک کر کہا۔ اسی قید کے دوران برغوثی نے ایمان نافی سے شادی کی، جو خود ایک سابق قیدی رہ چکی تھی۔ یہ بھی مزاحمت کی ایک صورت تھی۔ ان کے درمیان کبھی ازدواجی تعلقات قائم نہیں ہوسکے۔ ایمان ان کو خطوط، تصویریں اور پیغامات بھیجتی تھی۔ ’’میری بیوی مجھے ہر روز فلسطین کے گلی کوچوں کی تصویریں بھیجتی تھیں، تاکہ میں جڑا رہوں‘‘۔ ان کے نزدیک محبت جیل میں بقا ہے۔ جیل میں قیدی کے پاس آیا خط چھوٹی چیز نہیں ہوتی ہے۔ انہوں نے درد کے ساتھ مرحوم فلسطینی ادیب ولید دقہ کا ذکر کیا، جنہیں اسرائیلی قید میں اپنی بیوی یا بیٹی کو گلے لگانے کا حق نہ ملا۔ ’’ہمیں جس چیز نے سنبھالا وہ تھی کہ باہر کوئی ہم سے محبت کرتا ہے اور ہمارے دکھوں کا ساتھی ہے،‘‘ برغوثی نے کہا۔ ’’ہمیں رومیو اور جولیٹ کی ضرورت نہیں۔ ہمارے پاس ایسی ہزاروں کہانیاں ہیں‘‘۔

نائل البرغوثی جب نو عمری میں جیل میں چلے گئے تو تعلیم کا سلسلہ چھوٹ گیا تھا۔ مگر جب 2002 میں فلسطینی لیڈر مروان برغوثی کو پابند سلاسل کرکے عمر قید کی سزا سنائی گئی، تو انہوں نے جیل میں بند دیگر فلسطینیوں کو مطالعہ کی ترغیب دی۔ اس کے نتیجے میں نائل برغوثی بھی خاصے وسیع المطالعہ ہیں۔ وہ عربی کے علاوہ عبرانی اور انگریزی روانی سے بولتے ہیں اور عالمی تاریخ سے واقف ہیں۔ ہماری گفتگو میں انہوں نے برصغیر کی تاریخ کا ذکر کیا۔ انہوں نے مہاتما گاندھی، محمد علی جناح، جواہر لعل نہرو، ابوالکلام آزاد اور مولانا محمد علی جوہر کو پڑھا ہے۔ کشمیر کا ذکر آیا تو اس کی تاریخ کے ساتھ انہوں نے شیخ عبداللہ اور سید علی شاہ گیلانی جیسے رہنمائوں کا حوالہ بھی دیا۔ جب میں نے پوچھا کہ یہ وسعت کیسے حاصل ہوئی، تو وہ مسکرائے۔ ’’جیل نے ہمیں پڑھنے دیا،‘‘ انہوں نے کہا۔ وہ اس کے لیے مروان برغوثی کو کریڈٹ دیتے ہیں کہ انہوں نے فلسطینی قیدیوں کو تعلیم کی طرف راغب کیا۔ ’’ہمیں معلوم تھا کہ ہماری تعلیم شاید باہر کی دنیا کو فائدہ نہ دے سکے، کیونکہ ہماری قسمت میں تو جیل ہی میں مر جانا لکھا تھا۔ مگر ہمیں یہ یقین تھا کہ ہم اللہ کے پاس جاہل نہیں، باخبر ہو کر جائیں گے‘‘۔

برغوثی کی گفتگو میں کسی قسم کی تلخی یا شکست کا احساس نہیں تھا، حالانکہ ان کی زندگی کا بڑا حصہ سلاخوں کے پیچھے گزر گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ قید نے ان سے بہت کچھ چھینا، مگر سب کچھ نہیں۔ ’’انہوں نے میرا وقت لیا، مگر میرا شعور نہیں لے سکے،‘‘ وہ پرسکون انداز میں کہتے ہیں۔ آزادی کے بعد جب وہ لوگوں سے ملتے ہیں تو اکثر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ ہجوم، گاڑیوں کا شور اور تیز رفتار زندگی بعض اوقات انہیں تھکا دیتی ہے۔ ’’جیل میں خاموشی ہوتی ہے، باہر شور ہے‘‘۔ وہ کہتے ہیں، ’’اس شور کو سمجھنے میں وقت لگے گا‘‘۔ فروری 2025 میں غزہ جنگ بندی سے منسلک قیدی تبادلے کے تحت برغوثی کو رہا کردیا گیا۔ مگر جب فہرست میں ان کا نام آیا تو اسرائیل نے شرط رکھی کہ انہیں فلسطینی علاقوں میں رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہیں جلا وطن کیا جائے گا۔ ابتدا میں جب جیل میں بتایا گیا کہ رہائی کے فوراً بعد انہیں مصر بھیج دیا جائے گا، تو انہوں نے رہا ہونے سے انکار کر دیا۔ ’’قید جلاوطنی سے کم تلخ ہے‘‘، انہوں نے کہا۔ مگر ثالثوں کے دبائو میں انہوں نے رہائی قبول کی، کیونکہ خدشہ تھا کہ اگر مذاکرات ٹوٹ گئے تو غزہ کی امداد یا دوسرے قیدیوں کی رہائی متاثر ہوگی۔ ’’یہ موت کے پروانے جیسا تھا‘‘، انہوں نے کہا۔ انہیں اپنی زمین، اپنے گھر اور اپنے زیتون کے درختوں سے جدا کر کے قاہرہ بھیج دیا گیا۔

دہائیوں کے تشدد سے تھکا ہوا جسم کئی بیماریوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔ اب وہ ترکیہ میں علاج کرا رہے ہیں۔ دائمی درد، پرانی چوٹیں اور وہ بیماریاں جو جیل کی دیواروں کے اندر خاموشی سے جمع ہوتی رہیں، اب انہیں ستا رہی ہیں۔ اس کے باوجود ان کا یقین قائم ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی جدوجہد ختم نہیں ہوئی۔ ’’میں زندہ ہوں، یہی مزاحمت ہے‘‘۔ وہ نوجوان فلسطینیوں کو دیکھتے ہیں تو ان میں خود کو پہچانتے ہیں۔ انہیں خوف ہے کہ نئی نسل جیلوں، ناکوں اور جنگ کی نفسیات میں کہیں تھک نہ جائے۔ ’’اصل قید دیواروں کی نہیں، ناامیدی کی ہوتی ہے‘‘، وہ کہتے ہیں۔ نائل البرغوثی جانتے ہیں کہ واپسی کا خواب آسان نہیں، مگر وہ اسے ترک بھی نہیں کرتے۔ ’’جلاوطنی عارضی ہوتی ہے، یادداشت مستقل‘‘، وہ کہتے ہیں۔ ان سے بات چیت کرتے ہوئے وقت گزرنے کا احساس نہیں ہوا۔ کئی لوگ اردگرد جمع ہوگئے تھے جو ان کا ہاتھ چھونا چاہتے تھے، جیسے یہ یقین کرنا چاہتے ہوں کہ وہ واقعی قید سے باہر ہیں۔ نائل البرغوثی پینتالیس برس بعد جیل سے باہر آئے، مگر جیل، اس کی تاریکی، اس کی گواہی اور اس کے بے جواب سوال، سب ان کے ساتھ ہی باہر آئے۔ وہ اقبال کے اس شعر کی ایک عملی تفسیر معلوم ہو رہے تھے: یقین محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں۔

افتخار گیلانی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نائل البرغوثی وہ کہتے ہیں انہوں نے سے باہر جیل میں ہوتی ہے ہیں کہ نے کہا

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم