Jasarat News:
2026-07-24@06:32:19 GMT

اسرائیل میں 45 برس قید کاٹنے والے فلسطینی سے ملاقات

اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260112-03-3
(3)
نائل البرغوثی جب پینتالیس برس بعد قید سے باہر آئے تو صرف ایک فرد آزاد نہیں ہوا تھا، بلکہ ایک پورا زمانہ جیل کی دیواروں سے باہر قدم رکھ رہا تھا۔ وہ خود کہتے ہیں کہ دنیا بدل چکی ہے اور شاید یہی تبدیلی سب سے زیادہ حیران کن ہے۔ ’’میں جس دنیا میں گیا تھا، وہ سادہ تھی۔ لوگ ایک دوسرے سے خط لکھ کر بات کرتے تھے۔ آج سب کچھ اسکرین پر سمٹ گیا ہے،‘‘ وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں۔ موبائل فون ان کے لیے ایک نیا تجربہ ہے۔ وہ اب بھی سیکھ رہے ہیں کہ اسے کیسے استعمال کیا جائے، پیغامات کیسے پڑھے جائیں، تصاویر کیسے دیکھی جائیں۔ بعض اوقات وہ ہنستے ہوئے اعتراف کرتے ہیں کہ ایک بٹن دبانے سے ڈر لگتا ہے۔ ’’جیل میں وقت رکا رہتا ہے، مگر باہر دنیا دوڑ رہی ہے،‘‘ انہوں نے ایک لمحے کو رک کر کہا۔ اسی قید کے دوران برغوثی نے ایمان نافی سے شادی کی، جو خود ایک سابق قیدی رہ چکی تھی۔ یہ بھی مزاحمت کی ایک صورت تھی۔ ان کے درمیان کبھی ازدواجی تعلقات قائم نہیں ہوسکے۔ ایمان ان کو خطوط، تصویریں اور پیغامات بھیجتی تھی۔ ’’میری بیوی مجھے ہر روز فلسطین کے گلی کوچوں کی تصویریں بھیجتی تھیں، تاکہ میں جڑا رہوں‘‘۔ ان کے نزدیک محبت جیل میں بقا ہے۔ جیل میں قیدی کے پاس آیا خط چھوٹی چیز نہیں ہوتی ہے۔ انہوں نے درد کے ساتھ مرحوم فلسطینی ادیب ولید دقہ کا ذکر کیا، جنہیں اسرائیلی قید میں اپنی بیوی یا بیٹی کو گلے لگانے کا حق نہ ملا۔ ’’ہمیں جس چیز نے سنبھالا وہ تھی کہ باہر کوئی ہم سے محبت کرتا ہے اور ہمارے دکھوں کا ساتھی ہے،‘‘ برغوثی نے کہا۔ ’’ہمیں رومیو اور جولیٹ کی ضرورت نہیں۔ ہمارے پاس ایسی ہزاروں کہانیاں ہیں‘‘۔

نائل البرغوثی جب نو عمری میں جیل میں چلے گئے تو تعلیم کا سلسلہ چھوٹ گیا تھا۔ مگر جب 2002 میں فلسطینی لیڈر مروان برغوثی کو پابند سلاسل کرکے عمر قید کی سزا سنائی گئی، تو انہوں نے جیل میں بند دیگر فلسطینیوں کو مطالعہ کی ترغیب دی۔ اس کے نتیجے میں نائل برغوثی بھی خاصے وسیع المطالعہ ہیں۔ وہ عربی کے علاوہ عبرانی اور انگریزی روانی سے بولتے ہیں اور عالمی تاریخ سے واقف ہیں۔ ہماری گفتگو میں انہوں نے برصغیر کی تاریخ کا ذکر کیا۔ انہوں نے مہاتما گاندھی، محمد علی جناح، جواہر لعل نہرو، ابوالکلام آزاد اور مولانا محمد علی جوہر کو پڑھا ہے۔ کشمیر کا ذکر آیا تو اس کی تاریخ کے ساتھ انہوں نے شیخ عبداللہ اور سید علی شاہ گیلانی جیسے رہنمائوں کا حوالہ بھی دیا۔ جب میں نے پوچھا کہ یہ وسعت کیسے حاصل ہوئی، تو وہ مسکرائے۔ ’’جیل نے ہمیں پڑھنے دیا،‘‘ انہوں نے کہا۔ وہ اس کے لیے مروان برغوثی کو کریڈٹ دیتے ہیں کہ انہوں نے فلسطینی قیدیوں کو تعلیم کی طرف راغب کیا۔ ’’ہمیں معلوم تھا کہ ہماری تعلیم شاید باہر کی دنیا کو فائدہ نہ دے سکے، کیونکہ ہماری قسمت میں تو جیل ہی میں مر جانا لکھا تھا۔ مگر ہمیں یہ یقین تھا کہ ہم اللہ کے پاس جاہل نہیں، باخبر ہو کر جائیں گے‘‘۔

برغوثی کی گفتگو میں کسی قسم کی تلخی یا شکست کا احساس نہیں تھا، حالانکہ ان کی زندگی کا بڑا حصہ سلاخوں کے پیچھے گزر گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ قید نے ان سے بہت کچھ چھینا، مگر سب کچھ نہیں۔ ’’انہوں نے میرا وقت لیا، مگر میرا شعور نہیں لے سکے،‘‘ وہ پرسکون انداز میں کہتے ہیں۔ آزادی کے بعد جب وہ لوگوں سے ملتے ہیں تو اکثر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ ہجوم، گاڑیوں کا شور اور تیز رفتار زندگی بعض اوقات انہیں تھکا دیتی ہے۔ ’’جیل میں خاموشی ہوتی ہے، باہر شور ہے‘‘۔ وہ کہتے ہیں، ’’اس شور کو سمجھنے میں وقت لگے گا‘‘۔ فروری 2025 میں غزہ جنگ بندی سے منسلک قیدی تبادلے کے تحت برغوثی کو رہا کردیا گیا۔ مگر جب فہرست میں ان کا نام آیا تو اسرائیل نے شرط رکھی کہ انہیں فلسطینی علاقوں میں رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہیں جلا وطن کیا جائے گا۔ ابتدا میں جب جیل میں بتایا گیا کہ رہائی کے فوراً بعد انہیں مصر بھیج دیا جائے گا، تو انہوں نے رہا ہونے سے انکار کر دیا۔ ’’قید جلاوطنی سے کم تلخ ہے‘‘، انہوں نے کہا۔ مگر ثالثوں کے دبائو میں انہوں نے رہائی قبول کی، کیونکہ خدشہ تھا کہ اگر مذاکرات ٹوٹ گئے تو غزہ کی امداد یا دوسرے قیدیوں کی رہائی متاثر ہوگی۔ ’’یہ موت کے پروانے جیسا تھا‘‘، انہوں نے کہا۔ انہیں اپنی زمین، اپنے گھر اور اپنے زیتون کے درختوں سے جدا کر کے قاہرہ بھیج دیا گیا۔

دہائیوں کے تشدد سے تھکا ہوا جسم کئی بیماریوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔ اب وہ ترکیہ میں علاج کرا رہے ہیں۔ دائمی درد، پرانی چوٹیں اور وہ بیماریاں جو جیل کی دیواروں کے اندر خاموشی سے جمع ہوتی رہیں، اب انہیں ستا رہی ہیں۔ اس کے باوجود ان کا یقین قائم ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی جدوجہد ختم نہیں ہوئی۔ ’’میں زندہ ہوں، یہی مزاحمت ہے‘‘۔ وہ نوجوان فلسطینیوں کو دیکھتے ہیں تو ان میں خود کو پہچانتے ہیں۔ انہیں خوف ہے کہ نئی نسل جیلوں، ناکوں اور جنگ کی نفسیات میں کہیں تھک نہ جائے۔ ’’اصل قید دیواروں کی نہیں، ناامیدی کی ہوتی ہے‘‘، وہ کہتے ہیں۔ نائل البرغوثی جانتے ہیں کہ واپسی کا خواب آسان نہیں، مگر وہ اسے ترک بھی نہیں کرتے۔ ’’جلاوطنی عارضی ہوتی ہے، یادداشت مستقل‘‘، وہ کہتے ہیں۔ ان سے بات چیت کرتے ہوئے وقت گزرنے کا احساس نہیں ہوا۔ کئی لوگ اردگرد جمع ہوگئے تھے جو ان کا ہاتھ چھونا چاہتے تھے، جیسے یہ یقین کرنا چاہتے ہوں کہ وہ واقعی قید سے باہر ہیں۔ نائل البرغوثی پینتالیس برس بعد جیل سے باہر آئے، مگر جیل، اس کی تاریکی، اس کی گواہی اور اس کے بے جواب سوال، سب ان کے ساتھ ہی باہر آئے۔ وہ اقبال کے اس شعر کی ایک عملی تفسیر معلوم ہو رہے تھے: یقین محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں۔

افتخار گیلانی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نائل البرغوثی وہ کہتے ہیں انہوں نے سے باہر جیل میں ہوتی ہے ہیں کہ نے کہا

پڑھیں:

 صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات

 ویب ڈیسک: صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ 

 صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

 انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔ 

 صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔

ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔  
 

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

متعلقہ مضامین

  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم