Jasarat News:
2026-07-24@05:41:38 GMT

اسرائیل میں 45 برس قید کاٹنے والے فلسطینی سے ملاقات

اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260112-03-3
(3)
نائل البرغوثی جب پینتالیس برس بعد قید سے باہر آئے تو صرف ایک فرد آزاد نہیں ہوا تھا، بلکہ ایک پورا زمانہ جیل کی دیواروں سے باہر قدم رکھ رہا تھا۔ وہ خود کہتے ہیں کہ دنیا بدل چکی ہے اور شاید یہی تبدیلی سب سے زیادہ حیران کن ہے۔ ’’میں جس دنیا میں گیا تھا، وہ سادہ تھی۔ لوگ ایک دوسرے سے خط لکھ کر بات کرتے تھے۔ آج سب کچھ اسکرین پر سمٹ گیا ہے،‘‘ وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں۔ موبائل فون ان کے لیے ایک نیا تجربہ ہے۔ وہ اب بھی سیکھ رہے ہیں کہ اسے کیسے استعمال کیا جائے، پیغامات کیسے پڑھے جائیں، تصاویر کیسے دیکھی جائیں۔ بعض اوقات وہ ہنستے ہوئے اعتراف کرتے ہیں کہ ایک بٹن دبانے سے ڈر لگتا ہے۔ ’’جیل میں وقت رکا رہتا ہے، مگر باہر دنیا دوڑ رہی ہے،‘‘ انہوں نے ایک لمحے کو رک کر کہا۔ اسی قید کے دوران برغوثی نے ایمان نافی سے شادی کی، جو خود ایک سابق قیدی رہ چکی تھی۔ یہ بھی مزاحمت کی ایک صورت تھی۔ ان کے درمیان کبھی ازدواجی تعلقات قائم نہیں ہوسکے۔ ایمان ان کو خطوط، تصویریں اور پیغامات بھیجتی تھی۔ ’’میری بیوی مجھے ہر روز فلسطین کے گلی کوچوں کی تصویریں بھیجتی تھیں، تاکہ میں جڑا رہوں‘‘۔ ان کے نزدیک محبت جیل میں بقا ہے۔ جیل میں قیدی کے پاس آیا خط چھوٹی چیز نہیں ہوتی ہے۔ انہوں نے درد کے ساتھ مرحوم فلسطینی ادیب ولید دقہ کا ذکر کیا، جنہیں اسرائیلی قید میں اپنی بیوی یا بیٹی کو گلے لگانے کا حق نہ ملا۔ ’’ہمیں جس چیز نے سنبھالا وہ تھی کہ باہر کوئی ہم سے محبت کرتا ہے اور ہمارے دکھوں کا ساتھی ہے،‘‘ برغوثی نے کہا۔ ’’ہمیں رومیو اور جولیٹ کی ضرورت نہیں۔ ہمارے پاس ایسی ہزاروں کہانیاں ہیں‘‘۔

نائل البرغوثی جب نو عمری میں جیل میں چلے گئے تو تعلیم کا سلسلہ چھوٹ گیا تھا۔ مگر جب 2002 میں فلسطینی لیڈر مروان برغوثی کو پابند سلاسل کرکے عمر قید کی سزا سنائی گئی، تو انہوں نے جیل میں بند دیگر فلسطینیوں کو مطالعہ کی ترغیب دی۔ اس کے نتیجے میں نائل برغوثی بھی خاصے وسیع المطالعہ ہیں۔ وہ عربی کے علاوہ عبرانی اور انگریزی روانی سے بولتے ہیں اور عالمی تاریخ سے واقف ہیں۔ ہماری گفتگو میں انہوں نے برصغیر کی تاریخ کا ذکر کیا۔ انہوں نے مہاتما گاندھی، محمد علی جناح، جواہر لعل نہرو، ابوالکلام آزاد اور مولانا محمد علی جوہر کو پڑھا ہے۔ کشمیر کا ذکر آیا تو اس کی تاریخ کے ساتھ انہوں نے شیخ عبداللہ اور سید علی شاہ گیلانی جیسے رہنمائوں کا حوالہ بھی دیا۔ جب میں نے پوچھا کہ یہ وسعت کیسے حاصل ہوئی، تو وہ مسکرائے۔ ’’جیل نے ہمیں پڑھنے دیا،‘‘ انہوں نے کہا۔ وہ اس کے لیے مروان برغوثی کو کریڈٹ دیتے ہیں کہ انہوں نے فلسطینی قیدیوں کو تعلیم کی طرف راغب کیا۔ ’’ہمیں معلوم تھا کہ ہماری تعلیم شاید باہر کی دنیا کو فائدہ نہ دے سکے، کیونکہ ہماری قسمت میں تو جیل ہی میں مر جانا لکھا تھا۔ مگر ہمیں یہ یقین تھا کہ ہم اللہ کے پاس جاہل نہیں، باخبر ہو کر جائیں گے‘‘۔

برغوثی کی گفتگو میں کسی قسم کی تلخی یا شکست کا احساس نہیں تھا، حالانکہ ان کی زندگی کا بڑا حصہ سلاخوں کے پیچھے گزر گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ قید نے ان سے بہت کچھ چھینا، مگر سب کچھ نہیں۔ ’’انہوں نے میرا وقت لیا، مگر میرا شعور نہیں لے سکے،‘‘ وہ پرسکون انداز میں کہتے ہیں۔ آزادی کے بعد جب وہ لوگوں سے ملتے ہیں تو اکثر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ ہجوم، گاڑیوں کا شور اور تیز رفتار زندگی بعض اوقات انہیں تھکا دیتی ہے۔ ’’جیل میں خاموشی ہوتی ہے، باہر شور ہے‘‘۔ وہ کہتے ہیں، ’’اس شور کو سمجھنے میں وقت لگے گا‘‘۔ فروری 2025 میں غزہ جنگ بندی سے منسلک قیدی تبادلے کے تحت برغوثی کو رہا کردیا گیا۔ مگر جب فہرست میں ان کا نام آیا تو اسرائیل نے شرط رکھی کہ انہیں فلسطینی علاقوں میں رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہیں جلا وطن کیا جائے گا۔ ابتدا میں جب جیل میں بتایا گیا کہ رہائی کے فوراً بعد انہیں مصر بھیج دیا جائے گا، تو انہوں نے رہا ہونے سے انکار کر دیا۔ ’’قید جلاوطنی سے کم تلخ ہے‘‘، انہوں نے کہا۔ مگر ثالثوں کے دبائو میں انہوں نے رہائی قبول کی، کیونکہ خدشہ تھا کہ اگر مذاکرات ٹوٹ گئے تو غزہ کی امداد یا دوسرے قیدیوں کی رہائی متاثر ہوگی۔ ’’یہ موت کے پروانے جیسا تھا‘‘، انہوں نے کہا۔ انہیں اپنی زمین، اپنے گھر اور اپنے زیتون کے درختوں سے جدا کر کے قاہرہ بھیج دیا گیا۔

دہائیوں کے تشدد سے تھکا ہوا جسم کئی بیماریوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔ اب وہ ترکیہ میں علاج کرا رہے ہیں۔ دائمی درد، پرانی چوٹیں اور وہ بیماریاں جو جیل کی دیواروں کے اندر خاموشی سے جمع ہوتی رہیں، اب انہیں ستا رہی ہیں۔ اس کے باوجود ان کا یقین قائم ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی جدوجہد ختم نہیں ہوئی۔ ’’میں زندہ ہوں، یہی مزاحمت ہے‘‘۔ وہ نوجوان فلسطینیوں کو دیکھتے ہیں تو ان میں خود کو پہچانتے ہیں۔ انہیں خوف ہے کہ نئی نسل جیلوں، ناکوں اور جنگ کی نفسیات میں کہیں تھک نہ جائے۔ ’’اصل قید دیواروں کی نہیں، ناامیدی کی ہوتی ہے‘‘، وہ کہتے ہیں۔ نائل البرغوثی جانتے ہیں کہ واپسی کا خواب آسان نہیں، مگر وہ اسے ترک بھی نہیں کرتے۔ ’’جلاوطنی عارضی ہوتی ہے، یادداشت مستقل‘‘، وہ کہتے ہیں۔ ان سے بات چیت کرتے ہوئے وقت گزرنے کا احساس نہیں ہوا۔ کئی لوگ اردگرد جمع ہوگئے تھے جو ان کا ہاتھ چھونا چاہتے تھے، جیسے یہ یقین کرنا چاہتے ہوں کہ وہ واقعی قید سے باہر ہیں۔ نائل البرغوثی پینتالیس برس بعد جیل سے باہر آئے، مگر جیل، اس کی تاریکی، اس کی گواہی اور اس کے بے جواب سوال، سب ان کے ساتھ ہی باہر آئے۔ وہ اقبال کے اس شعر کی ایک عملی تفسیر معلوم ہو رہے تھے: یقین محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں۔

افتخار گیلانی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نائل البرغوثی وہ کہتے ہیں انہوں نے سے باہر جیل میں ہوتی ہے ہیں کہ نے کہا

پڑھیں:

وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم

سٹی 42:وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری  وفد کی ملاقات،وزیر اعظم  نے کہا بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے  پاک چین  دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چینی کمپنی فیمسنFAMSUN کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین Jack Chen کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی ۔ وزیراعظم نے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا

وزیر اعظم نے کہا پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے یہ دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔وزیر اعظم نے چینی کمپنی کا پاکستان میں اجناس کے  سٹوریج کے مراکز کو اسٹیٹ آف آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔ 

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

 اس منصوبے سے  ملک میں  زراعت کے سیکٹر میں جدید ترین ٹیکنالوجی آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ پاکستان کی افرادی قوت کی ہنر مندی اور  تربیت کو ان منصوبوں  کا حصہ بنایا جائے۔

 جیک چین نے پاکستان میں پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیافیمسن کے چیف ایگزیکٹو  نے وزیراعظم سے انکے حالیہ دورہء چین کے دوران اپنی  ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں وہ پاکستان کا دورہ کررہے ہیں اور غذائی تحفظ کے حوالے سے قابل عمل منصوبے  پر بات چیت کی جارہی ہے۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

جناب جیک چین نے کہا کہ فیمسن پاکستان میں غذائی تحفظ کے حوالے سے بہتر سٹوریج مراکز، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تربیت فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔بریفنگ میں بتایا کہ فیمسن پاکستان میں گرین سائلوز کے قیام کے حوالےسے ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی سٹوریج سینٹرز کو جدید گرین سائلوز میں بدلا جائے گا ۔فیمسن اور گرین پاکستان انیشئیٹو کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں

ملاقات میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر  اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔فیمسن زراعت، جانوروں کی خوراک اور فوڈ پراسیسنگ کے حوالے سے چین کی بڑی  کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ 

بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار

متعلقہ مضامین

  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم