26 نومبر احتجاج؛ علیمہ خان کی حاضری معافی کی درخواست پر پراسیکیوٹر کی سخت مخالفت، فیصلہ محفوظ
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
راولپنڈی:
انسداد دہشت گردی عدالت میں 26 نومبر احتجاج کیس میں علیمہ خان کی حاضری معافی کی درخواست پر پراسیکیوٹر نے سخت مخالفت کرتے ہوئے وانٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا کر دی تاہم عدالت نے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کیس کی سماعت کی۔ علیمہ خان سمیت تمام 11 ملزمان کو طلب کیا گیا تھا۔
دوران سماعت، علیمہ خان کی آج حاضری معافی کی درخواست دائر گئی جس میں موقف اپنایا گیا کہ علیمہ خان آج عدالت پیش نہیں ہوسکتیں، آئندہ تاریخ پر پیش ہوں گی۔
وکیل صفائی نے کہا کہ ہم نے عدالت سے درخواست کر دی ہے، آئندہ تاریخ پر ٹرائل میں شریک ہوں گے۔ آئندہ جو بھی تاریخ ہوگی ہم قانون کے مطابق شریک ہوں گے۔
مزید پڑھیں26 نومبر 2024 احتجاج پر درج مقدمہ میں علیمہ خان کے وارنٹ گرفتاری جاری
علیمہ خان کیخلاف 26 نومبر 2024 کے احتجاج پر درج مقدمے میں بریت کی درخواست مسترد
عمران خان کو جیل سے نکالیں گے، پورا پاکستان بند کریں گے، نہیں چلنے دیں گے، علیمہ خان
پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے درخواست کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاخیری حربے ہیں، 20 پیشیاں ہوچکی ہیں لہٰذا وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں۔ ہمارے تمام گواہان عدالت میں موجود ہیں اس لیے ان پر جرح شروع کروائی جائے۔ علیمہ خان سمیت جو ملزمان غیر حاضر ہیں ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں۔
عدالت نے فریقین وکلاء کے دلائل پر سماعت مکمل کرکے تھوڑی دیر کا وقفہ دے دیا۔ وکیل صفائی کی چھوٹی سی نئی تاریخ پر پراسیکیوٹر نے گواہان پر جرح اور وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا کی۔
واضح رہے کہ مقدمہ تھانہ صادق آباد پولیس نے درج کیا تھا جو حتمی مراحل میں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وارنٹ گرفتاری جاری علیمہ خان کی کی درخواست
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بجٹ سے چند روز قبل ہی آئینی عدالت سے حکومت کو ریونیو کی مد میں بڑا جھٹکا، وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی۔
نجی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے غیر رجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31 اے میں ابہام ہے، حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا، اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں، قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں مزید لکھا کہ رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی۔
وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا۔ پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔
ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان
مزید :