سردی سے بچاؤ کا دیسی نسخہ: ایسی غذائیں جو جسم کو اندر سے گرم رکھیں
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سردیوں کا موسم آتے ہی جسم پر ٹھنڈی ہواؤں کے اثرات نمایاں ہونے لگتے ہیں، ایسے میں صحت مند رہنے کے لیے خوراک کا درست انتخاب بے حد اہم ہو جاتا ہے۔
مشرقی طب اور قدیم حکمت صدیوں سے اس بات پر زور دیتی آئی ہے کہ قدرتی اور دیسی غذائیں نہ صرف جسم کو توانائی فراہم کرتی ہیں بلکہ اندرونی حرارت کو برقرار رکھنے میں بھی مؤثر کردار ادا کرتی ہیں۔ یہی غذائیں خون کی گردش کو بہتر بنا کر سردی کے اثرات کم کرتی ہیں اور جسم کو متوازن رکھتی ہیں۔
دیسی غذاؤں میں گھی کو ہمیشہ سردیوں کی غذا کا بادشاہ قرار دیا جاتا رہا ہے۔ گھی میں موجود مفید چکنائیاں جسم کو فوری توانائی فراہم کرتی ہیں اور اندر سے گرم رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ روٹی، دال یا کھچڑی میں معمولی مقدار میں گھی شامل کرنے سے ہاضمہ بہتر ہوتا ہے، جو سرد موسم میں عموماً سست پڑ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب نظامِ ہاضمہ درست رہے تو جسم قدرتی طور پر سردی کا مقابلہ بہتر انداز میں کر پاتا ہے۔
اجوائن بھی سردیوں میں خاص اہمیت رکھتی ہے اور گھریلو نسخوں میں اس کا استعمال عام ہے۔ اجوائن معدے کو فعال بناتی ہے اور جسم کے اندرونی درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ اسی لیے اجوائن والے پراٹھے یا اجوائن کا نیم گرم پانی سرد موسم میں بدہضمی اور ٹھنڈک سے بچانے کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔ بزرگوں کے مطابق اجوائن کا باقاعدہ استعمال جسم میں جمع ہونے والی اضافی نمی کو بھی کم کرتا ہے۔
اسی طرح تل کو بھی گرم غذاؤں میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ تل سے بنے لڈو، چکّی یا چٹنی سردیوں میں نہ صرف جسم کو توانائی فراہم کرتے ہیں بلکہ جلد کی خشکی اور جسمانی تھکن کو بھی دور کرتے ہیں۔
دیسی روایات میں تل کو سرد موسم کی خاص خوراک اسی لیے مانا جاتا ہے کہ یہ جسم میں دیرپا حرارت پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح باجرے کی روٹی سردیوں کی پہچان سمجھی جاتی ہے، کیونکہ یہ دیر سے ہضم ہوتی ہے اور جسم کو زیادہ توانائی خرچ کرنی پڑتی ہے، جس سے قدرتی حرارت پیدا ہوتی ہے۔
ادرک بھی ہر گھر کی لازمی ضرورت سمجھی جاتی ہے، خاص طور پر سردیوں میں۔ چاہے اسے چائے میں شامل کیا جائے یا سالن میں، ادرک خون کی روانی بہتر بناتی ہے اور ہاتھ پاؤں کی ٹھنڈک دور کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اس کے علاوہ مونگ کی دال، اگرچہ ہلکی غذا تصور کی جاتی ہے، مگر جب اسے گھی اور گرم مصالحوں کے ساتھ پکایا جائے تو یہ جسم کو سکون اور حرارت فراہم کرتی ہے۔
دیسی غذاؤں پر مشتمل یہ آزمودہ حکمت آج بھی اتنی ہی مؤثر ہے، کیونکہ قدرتی غذائیں نہ صرف سردی کی شدت کم کرتی ہیں بلکہ صحت کو دیرپا فوائد بھی پہنچاتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کرتی ہیں اور جسم جاتا ہے جسم کو ہے اور
پڑھیں:
قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان
بھارتی ریاست آسام میں قدرت کے انوکھے مظاہر میں شمار ہونے والے ہولونگ درخت کے منفرد ’ہیلی کاپٹر پھل‘ ایک بار پھر لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جرمنی کا صدیوں پرانا شاہ بلوط کا درخت پریمیوں کا پیغام رساں کیسے بنا؟
ڈیپٹیروکارپس ریٹوسس المعروف ہولونگ ایک مضبوط اور بلند قامت درخت ہے جو تقریباً 60 میٹر تک بلند ہو سکتا ہے۔ یہ درخت جنوب مشرقی ایشیا میں پایا جاتا ہے اور مقامی ثقافتوں میں اسے خاص اہمیت حاصل ہے جبکہ اس کی لکڑی تعمیرات، فرنیچر سازی اور کشتیوں کی تیاری میں استعمال کی جاتی ہے۔
Hollong seeds are a stunning local example of nature's autorotating 'helicopters'! ????????
Globally, maple samaras inspired much of the research into this principle for real helicopters and drones.
The origin of helicopter autorotation (and modern drone/micro-flyer designs) is… https://t.co/jKXLuMq5nR
— Chinnu Senthilkumar (@chinnusenthil1) May 20, 2026
اس درخت کی سب سے دلچسپ خصوصیت اس کے 2 پروں والے پھل ہیں جو شاخوں سے گرنے کے دوران ننھے ہیلی کاپٹر کی طرح گھومتے ہوئے نیچے آتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ قدرتی نظام بیجوں کو درخت سے دور زرخیز زمین تک پہنچانے میں مدد دیتا ہے جہاں ان کی افزائش کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیے: کچھ درخت جان بوجھ کر آسمانی بجلی کو گرنے کی دعوت کیوں دیتے ہیں؟
خشک موسم میں جب درجنوں یہ پھل آسمان سے گھومتے ہوئے زمین کی طرف اترتے ہیں تو یہ منظر دیکھنے والوں کو مسحور کر دیتا ہے۔
حال ہی میں ایسے ہی ایک منظر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس نے اس قدرتی مظہر کو عالمی توجہ دلائی۔
مزید پڑھیں: فضائی کمپنی نے مسافر کو جہاز سے اترجانے کے لیے 3 ہزار ڈالر کی پیشکش کیوں کی؟
بھارتی ریاست آسام کو اس نظارے کے لیے بہترین مقامات میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ ہولونگ وہاں بڑی تعداد میں پایا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہولونگ کو آسام کا سرکاری درخت بھی قرار دیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جنوب مشرقی ایشیا جنوب مشرقی ایشیا کا حیرت انگیز درخت ہولونگ درخت ہولونگ درخت کے ہیلی کاپٹر پھل‘ ہیلی کاپٹر پھل