سندھ حکومت کے رویے پر وزیراعلیٰ کے پی برہم، ثقافتی علامات کی بےحرمتی کا الزام
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
کراچی میں نمائش چورنگی پر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے سندھ حکومت پر شدید تنقید کی اور کہا کہ جلسے کے انعقاد میں دانستہ رکاوٹیں ڈالی گئیں، تاہم عوام نے تمام رکاوٹوں کو ہٹا کر جلسہ کامیاب بنا دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مختلف مقامات پر پولیس گردی کی گئی، اس کے باوجود بڑی تعداد میں لوگ جلسے میں شریک ہوئے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ نہ پنجاب اور نہ ہی سندھ میں حکومتوں نے ان کے ساتھ اچھا رویہ اختیار کیا، لیکن اس کے باوجود تحریک جاری رہے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اب اگلا پڑاؤ خیبرپختونخوا میں ڈالا جائے گا اور اسٹریٹ موومنٹ کے ذریعے بانی پی ٹی آئی کا پیغام پورے ملک میں پہنچایا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے کراچی کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی بڑی تعداد میں شرکت نے ثابت کر دیا ہے کہ قوم آج بھی بانی پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ بانی پی ٹی آئی کی سیاست ختم ہو چکی ہے، وہ آج آ کر حقیقت دیکھ لیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ سندھ حکومت نے سندھی ٹوپی اور اجرک کی بےحرمتی کی اور پیپلز پارٹی نے آئین کے ڈھانچے کو تبدیل کر کے سندھ میں آمریت قائم کر دی ہے۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ عوام ڈی چوک جانے کے لیے تیار ہیں اور بانی پی ٹی آئی کی کال کا انتظار ہے، کسی کو عوامی حقوق سلب کرنے یا قوم کے لیڈر کو بلاجواز جیل میں رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل بانی پی ٹی آئی کہا کہ
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔