غیراخلاقی تصویریں بنانے کا الزام، ملائشیا نے گروک چیٹ بوٹ تک رسائی بند کر دی
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
جنسی نوعیت کی تصویریں بنانے کے الزام کے بعد ملائشیا نے گروک چیٹ بوٹ تک رسائی عارضی طور پر بلاک کر دی ہے، یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب دنیا بھر میں اس چیٹ بوٹ پر تنقید بڑھ گئی تھی۔
ایلون مسک کی قیادت میں کام کرنے والی کمپنی ایکس اے آئی نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ تصویری تخلیق اور ترمیم کی سہولت صرف ادائیگی کرنے والے سبسکرائبرز کے لیے دستیاب ہوگی تاکہ ایسے نقائص کو دور کیا جا سکے جو صارفین کو بغیر رضامندی کے دوسروں کی جنسی نوعیت کی تصاویر بنانے کی اجازت دیتے تھے۔
یہ بھی پڑھیے: خواتین اور بچوں کی نازیبا تصاویر، گروک کے خلاف دنیا بھر میں تحقیقات کا مطالبہ
ملائشیا کی کمیونیکیشنز اینڈ ملٹی میڈیا کمیشن نے اتوار کو بیان میں کہا کہ گروک تک رسائی محدود کی جائے گی کیونکہ اس کے استعمال کی وجہ سے غیر اخلاقی، جنسی نوعیت، قابل اعتراض اور غیر رضامندی سے تیار شدہ تصاویر تخلیق کی گئی ہیں، جس میں خواتین اور نابالغ افراد شامل ہیں۔
کمیشن نے بتایا کہ اس نے اس ماہ ایکس اور ایکس اے آئی کو نوٹس جاری کیے تاکہ مؤثر تکنیکی اور نگرانی کے اقدامات نافذ کیے جائیں، لیکن موصولہ جوابات میں زیادہ تر صارفین کی رپورٹنگ کے طریقے شامل تھے جو اے آئی ٹولز کے ڈیزائن اور استعمال سے پیدا ہونے والے خطرات کا مؤثر حل نہیں فراہم کرتے۔
یہ بھی پڑھیے: چین کا امریکا پر طنز، دوہرے معیار پر مبنی اے آئی ویڈیو جاری
کمیشن نے کہا ہم اس بات کو ناکافی سمجھتے ہیں کہ نقصان کو روکا جا سکے یا قانونی تعمیل یقینی بنائی جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اے آئی
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔