روس کا یوکرین کے ایف 16 طیارے مار گرانے کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
روسی کمانڈر نے اتوار کے روز بتایا کہ روس کے ایس-300 فضائی دفاعی نظام نے یوکرین کو فراہم کیے گئے ایف-16 لڑاکا طیارے کا سراغ لگا کر اسے نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق، طیارے پر دو میزائل داغے گئے، جن میں سے پہلے میزائل نے طیارے کو نقصان پہنچایا جبکہ دوسرے میزائل نے اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ روسی فوج کے ایک کمانڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ روس کے فضائی دفاعی نظام نے یوکرین کے زیرِ استعمال امریکی ساختہ ایف-16 لڑاکا طیارہ مار گرایا ہے۔ روسی کمانڈر نے اتوار کے روز بتایا کہ روس کے ایس-300 فضائی دفاعی نظام نے یوکرین کو فراہم کیے گئے ایف-16 لڑاکا طیارے کا سراغ لگا کر اسے نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق، طیارے پر دو میزائل داغے گئے، جن میں سے پہلے میزائل نے طیارے کو نقصان پہنچایا جبکہ دوسرے میزائل نے اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ کمانڈر نے کہا، "اس آپریشن کی تیاری میں کافی وقت لگا۔ ہم طویل عرصے سے اس طیارے کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے اور مناسب موقع کے منتظر تھے۔ دشمن کا دعویٰ تھا کہ یہ طیارے ناقابلِ تباہی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ بھی دیگر طیاروں کی طرح آسمان سے گر سکتے ہیں۔" تاہم روسی کمانڈر نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ واقعہ کب اور کہاں پیش آیا۔
یاد رہے کہ یوکرین کو سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے دوران اگست 2024ء میں پہلی مرتبہ اپنے مغربی اتحادیوں کی جانب سے ایف 16 لڑاکا طیارے موصول ہوئے تھے۔ اس موقع پر یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا تھا کہ ایف 16 طیاروں کی منتقلی کا عمل جاری ہے اور یہ طیارے ڈنمارک اور نیدرلینڈز سے یوکرین پہنچ رہے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودہ انتظامیہ نے بھی اس پالیسی کو برقرار رکھا ہے۔ مئی 2025ء میں واشنگٹن نے یوکرین کو ایف 16 لڑاکا طیاروں، متعلقہ آلات اور اسپیئر پارٹس کی فروخت کے لیے 300 ملین ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ بزنس انسائیڈر کے مطابق، مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کو مجموعی طور پر 87 ایف-16 لڑاکا طیاروں کی فراہمی کا وعدہ کیا گیا تھا، جن میں سے اب تک 44 طیارے باضابطہ طور پر یوکرین کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایف 16 لڑاکا نے یوکرین یوکرین کو
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔