گولڈن گلوب ایوارڈز: جیسی بکلے، ٹیانا ٹیلراوراسٹیلن اسکارسگارڈ فاتح قرار
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
گولڈن گلوب ایوارڈز کی شاندار تقریب میں ہالی ووڈ کے اداکاروں اور فلمی شخصیات کو ان کے کارناموں کے اعتراف میں پہلا اعزاز دیا گیا، اس تقریب کا آغاز اس سال کے اکیڈمی ایوارڈز سے چند ہفتے قبل ہوتا ہے اور یہ فلمی دنیا کی سنہری تقریبات کا آغاز سمجھا جاتا ہے۔
جہاں آئرش اداکارہ جیسی بکلے شیکسپیئر پر بننے والی فلم ’ہیمنیٹ‘ میں اپنی اداکاری کا جوہر دکھانے پر بہترین اداکارہ اور ’دی سیکرٹ ایجنٹ‘ میں مرکزی کردار اداکرنے والے ویگنر مورا بہترین اداکار قرار پائے وہیں ٹیانا ٹیلراوراسٹیلن اسکارسگارڈ نے اس سال کے پہلے ایوارڈز اپنے نام کیے۔
یہ بھی پڑھیں: ہالی ووڈ ایکٹر ایوارڈز: ’ون بیٹل آفٹر اینادر‘ اور ’سنرز‘ سرفہرست
اسی طرح پال ٹامس اینڈرسن نے اپنی فلم ’ون بیٹل آفٹر انادر‘ پر بہترین ہدایتکار کا ایوارڈ اپنے نام کیا، ٹیانا ٹیلرکو فلم ’ون بیٹل آفتر انادر‘ میں ایک انقلابی اور ماں کا کردار ادا کرنے پر بہترین معاون اداکارہ قرار دیا گیا۔
انہوں نے اپنی ’براؤن بہنوں اور چھوٹی براؤن بچیوں‘ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر اس کمرے میں موجود ہونے کی حقدار ہیں، جہاں ان کے قدم پہنچتے ہیں، ہماری آواز اہمیت رکھتی ہے۔‘
https://Twitter.
’ون بیٹل آفٹر انادر‘ اس سال کے گلوبز میں سب سے زیادہ نامزدگیوں والی فلم رہی، یہ ڈارک کامیڈی ایک ناکام انقلابی کی کہانی بیان کرتی ہے، جس کا کردار لیونارڈو ڈی کیپریو نے ادا کیا ہے، جو اپنی بیٹی کی زندگی کے خطرے میں ہونے پر حرکت میں آتا ہے۔
ٹیانا ٹیلرنے اس فلم میں لیونارڈو کی ساتھی اور بچے کی والدہ کا کردار ادا کیا ہے، دوسری جانب سنیمیٹک اینڈ باکس آفس اچیومنٹ کا گولڈن گلوب ایوارڈ بلیوز موسیقی سے سجی ویمپائر کہانی پر مبنی فلم ’سنرز‘ کے نام رہا۔
مزید پڑھیں: آسکرایوارڈز 2025 کی نامزدگیوں کا اعلان، فہرست میں بہترین فلمیں اور اداکار کون ہیں؟
نارویجین خاندانی ڈرامے ’سینٹی مینٹل ویلیو‘ کے مرکزی کردار 74سالہ اسٹیلن اسکارسگارڈ نے کہا کہ انہوں نے تقریر کی تیاری نہیں کی کیونکہ وہ خود کو بہت بزرگ سمجھتے ہیں۔
انہوں نے اپنے خطاب میں لوگوں پر زور دیا کہ وہ ان کی اور دیگر فلمیں سینما گھروں میں دیکھیں۔ ’سینما میں، آپ دوسروں کے ساتھ جذبات بانٹتے ہیں، یہی جادو ہے۔ سینما کو سینما میں ہی دیکھنا چاہیے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹیلن اسکارسگارڈ جیسی بکلے سینٹی مینٹل ویلیو گولڈن گلوب ایوارڈ ہیمنیٹ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جیسی بکلے گولڈن گلوب ایوارڈ ہیمنیٹ گولڈن گلوب ون بیٹل
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔