ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل بنگلہ دیش (ٹی آئی بی) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر افتخار الزماں نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت اپنی وعدہ کردہ اصلاحاتی ایجنڈا پر بڑی حد تک عمل درآمد میں ناکام رہی، کیونکہ حکومت نے عملاً اختیار جڑ پکڑ چکی بیوروکریسی کے حوالے کر دیا۔

ڈھاکا میں ایک پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے افتخار الزماں کا کہنا تھا کہ اگرچہ ایک مشاورتی کونسل باضابطہ طور پر موجود ہے، تاہم حقیقی فیصلہ سازی اس کے پاس نہیں۔ عملی طور پر اختیارات ریاستی نظام میں موجود بااثر افراد اور گروہوں کے ہاتھ میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش کا امریکا کو پیغام، غزہ مشن میں شامل ہونے پر آمادگی

انہوں نے کہا کہ باضابطہ اختیار اور اصل طاقت کے درمیان واضح خلا موجود ہے، اور اس بات کی نشاندہی کی کہ اصلاحات سے متعلق اہم فیصلے مثلاً کن شقوں کو برقرار رکھا جائے، کن میں ترمیم ہو یا کنہیں مکمل طور پر خارج کر دیا جائے مشاورتی کونسل نہیں بلکہ پسِ پردہ سرگرم عناصر کرتے ہیں۔

ان کے مطابق یہ طاقتور حلقے اکثر ادارہ جاتی اور سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے کام کرتے ہیں، جن میں مخالف سیاسی قوتوں سے وابستہ مفادات بھی شامل ہیں۔ نتیجتاً کئی اصلاحاتی تجاویز کو یا تو کمزور بنا دیا گیا یا حتمی پالیسی فریم ورک سے مکمل طور پر نکال دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش: سارک کی روح زندہ ہے، تنظیم فعال ہونی چاہیے، چیف ایڈوائزر محمد یونس

بدعنوانی کے خلاف اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے افتخار الزماں نے کہا کہ انسدادِ بدعنوانی کمیشن جیسے اداروں کو بااختیار بنانے کے لیے واضح سیاسی اور اسٹریٹجک عزم کا فقدان ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان اداروں کو محدود آزادی دینا بھی طویل عرصے سے جاری سیاسی اور بیوروکریٹک بدعنوانی کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اور بیوروکریٹک نظام میں موجود وہ عناصر جو بدعنوانی سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اصلاحات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے رہے۔ بعض مواقع پر نچلے درجے کے افسران، اپنے اعلیٰ افسران سے بھی زیادہ اثر و رسوخ رکھتے دکھائی دیے۔

افتخار الزماں نے اس بات پر زور دیا کہ معاشرے اور مختلف سیاسی حلقوں میں اصلاحات کے لیے عوامی حمایت اب بھی موجود ہے، تاہم عبوری حکومت نے مزاحمت کرنے والے عناصر کی درست نشاندہی اور ان کا مؤثر توڑ کرنے میں ناکامی دکھائی۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا سے تجارتی مذاکرات، بنگلہ دیش کے لیے نئے مواقعوں کے امکانات روشن

انہوں نے کہا کہ اصلاحات کی مخالفت نہ تو منظم انداز میں نقشہ بند کی گئی اور نہ ہی اس سے نمٹنے کے لیے کوئی واضح حکمتِ عملی اپنائی گئی۔

ان کے مطابق، چاہے یہ ادارہ جاتی کمزوری ہو یا دانستہ غفلت، بالآخر اصلاحاتی عمل پس منظر میں چلا گیا، اور موجودہ جمود اسی ناکامی کا براہِ راست نتیجہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بنگلہ دیش؎ ڈھاکا عبوری حکومت محمد یونس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بنگلہ دیش ڈھاکا عبوری حکومت محمد یونس افتخار الزماں عبوری حکومت بنگلہ دیش نے کہا کے لیے

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے