Express News:
2026-06-02@20:39:21 GMT

ذاتی اور مالی مفادات کی سیاست

اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT

ایک تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ملک میں اب نوابزادہ نصراللہ خان جیسا رہنما موجود نہیں جو ایسا محور تھے جن کے گرد سب جمع ہو جاتے تھے۔ سیاسی پارٹیوں کو سوچنا چاہیے کہ وہ کب تک غیر متعلقہ رہیں گی۔ یہ حقیقت سو فی صد درست ہے کہ ملک میں ہر سیاسی رہنما متنازع ہو چکا ہے اور کسی میں یہ صلاحیت نہیں کہ وہ ملک کے سیاستدانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے ملکی حالات پر غور و خوص اور ملکی مفاد میں آپس میں بیٹھ کر کوئی متفقہ فیصلہ کرسکیں۔

مرحوم نوابزادہ نصراللہ خان سے راقم کی شکارپور اور لاہور میں ملاقاتوں کے علاوہ ان کے آبائی شہر خانگڑھ ضلع مظفر گڑھ میں ان کی رہائش گاہ پر تفصیلی ملاقات ہوئی تھی جہاں راقم کے کزن چوہدری لیاقت علی لے گئے تھے جو نوابزادہ صاحب کے بہت قریب تھے اور نوابزادہ فیملی ان کی غمی و خوشی میں شریک ہوا کرتی تھی اور یہ تعلق اب سیاسی بھی ہو چکا ہے۔

اس وقت نوابزادہ نے سندھ میں (ن) لیگی حکومت میں ہونے والی کرپشن پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب ملک کی سیاست میں کرپشن، اقربا پروری، سیاسی تلخیاں بڑھتی جا رہی ہیں جب کہ سیاست مفاد پرستی کے لیے نہیں ہوتی بلکہ ملک کی خدمت کے لیے ہونی چاہیے اور ہم نے ملک میں سیاست عبادت سمجھ کر کی ہے اور ایک دوسرے کی عزت و احترام برقرار اور رواداری کو فروغ دیا ہے اور سیاست میں کبھی دشمنی نہیں ہونی چاہیے بلکہ سیاسی اختلافات ایک حد میں رہ کر دوسرے کی عزت کے ساتھ کرنی چاہیے اور برداشت کا مظاہرہ ضروری ہے۔

اس وقت نوابزادہ نصراللہ کے متعلق مشہور تھا کہ انھوں نے اپنی زمینیں فروخت کرکے سیاست کی جس سے ان کی مالی حالت کمزور ہوئی ورنہ وہ بھی بے نظیر حکومت میں مفادات حاصل کر سکتے تھے، البتہ انھوں نے اہلیت کی بنیاد پر اپنے علاقے کے نوجوانوں کو ملازمتیں ضرور دلوائیں۔ نوابزادہ سے سیاسی اختلاف رکھنے والے بھی نوابزادہ کا احترام کرتے تھے اور حکومتوں سے اختلاف رکھنے والی پارٹیوں کے سربراہوں کو آپس میں بیٹھ کر یا سیاسی اتحاد کے لیے جمع کرکے نوابزادہ کی سربراہی میں سیاسی اتحاد بھی بنے تھے۔

آج ملک میں تین بار وزیر اعظم اور دو دو بار ملک کا صدر اور وزیر اعظم تو موجود ہیں مگر ان میں کوئی ایک بھی قدآور سیاسی شخصیت موجود نہیں حکومت سے باہر قومی رہنما کی حیثیت کے حامل مولانا فضل الرحمن ضرور موجود ہیں جنھوں نے پی ٹی آئی حکومت کے خلاف ایک سیاسی اتحاد پی ڈی ایم بنوا کر اپنی سربراہی میں تحریک اعتماد کامیاب کرائی تھی۔ پی ڈی ایم حکومت کی دو بڑی پارٹیاں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی16 ماہ تک پی ڈی ایم حکومت میں شامل رہیں مگر جیسے ہی نگراں حکومت بنی پی پی کے چیئرمین نے مسلم لیگ (ن) سے آنکھیں پھیر کر اپنی انتخابی مہم شروع کی تھی اور انتخابی نتائج کے فوری بعد دونوں بڑی پارٹیوں نے اپنے سیاسی مفاد کے لیے حکومتی اتحاد بنایا اور مولانا فضل الرحمن کو پوچھا تک نہیں جس کی وجہ سے مولانا حکومت سے ناراض ہو کر اپنی پارٹی کی طرف سے اپوزیشن کا کردار ادا کر رہے ہیں اور حکومت پر کڑی تنقید کرکے سیاست کر رہے ہیں۔

پی ٹی آئی حکومت کو ہٹوانے کے لیے دونوں بڑی پارٹیوں نے مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں تحریک عدم اعتماد کامیاب کرائی تھی اور دونوں پارٹیاں مولانا کے قریب تھیں۔ اصولی طور پر انتخابات کے بعد دونوں پارٹیوں کو اپنے سیاسی مفاد کے لیے مولانا کو بھی دیگر چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کے ساتھ لے کر چلنا چاہیے تھا مگر پیپلز پارٹی نے ایسے نہیں ہونے دیا اور بلوچستان میں اپنی حکومت بنانے کے لیے جے یو آئی ف کو نظرانداز کیا جب کہ بلوچستان میں جے یو آئی کے ووٹ بھی تقریباً دونوں پارٹیوں جیسے تھے۔

سیاسی پارٹیوں کی سیاسی اور ان کے سربراہوں کی مالی مفاد پرستی ہر دور میں رہی ہے اور سب نے ہی اپنے اپنے مفادات کو ہمیشہ ترجیح دی اور حکومتیں بنائیں جب کہ ہر پارٹی کے نظریات اور منشور مختلف تھے مگر جب بھی سیاسی مفادات اور حکومتی تشکیل میں ایک دوسرے کی ضرورت پڑی و باہمی اختلافات چھوڑ کر متحد ہوئیں۔

موجودہ حکومت کی تشکیل کے وقت اور پہلے بھی مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے مولانا فضل الرحمن اور چوہدری شجاعت سے ذاتی تعلقات بھی رہے اور سیاسی اختلاف بھی رہا کیونکہ (ق) لیگ پی ٹی آئی کی اتحادی تھی جب کہ مسلم لیگ (ن) کی سیاسی مخالفت میں صدر زرداری نے اپنی حکومت برقرار رکھنے کے لیے (ق) لیگ اور ایم کیو ایم کو ساتھ ملا لیا تھا مگر 2006 میں پی پی اور مسلم لیگ (ن) نے جنرل پرویز مشرف کی وجہ سے لندن میں میثاق جمہوریت اس لیے کیا تھا کہ نواز شریف اور بے نظیر بھٹو جلا وطن تھے اور جنرل پرویز دونوں کی واپسی کے خلاف تھے اس لیے دونوں نے مجبور ہو کر اپنے سیاسی مفاد کے لیے یہ معاہدہ کیا تھا جس کے بعد سے دونوں پارٹیوں نے ایک دوسرے کی حکومتوں کی شدید مخالفت نہیں کی جب کہ دونوں 1999 تک ایک دوسرے کو اپنا دشمن سمجھتی تھیں۔

 ملک کی صورت حال میں اپوزیشن ملک میں میثاق جمہوریت اور حکومتی پارٹیاں میثاق معیشت چاہتی ہیں کیونکہ دونوں اسی میں اپنا سیاسی مفاد سمجھتی ہیں۔ اپوزیشن کو حصول اقتدار کی اور حکومت کو معاشی بہتری کے ذریعے اپنا اقتدار برقرار رہنے کی ملک سے زیادہ فکر ہے۔ آج کل کی سیاست میں اپنے ذاتی اور مالی مفادات کی ہر سیاستدان کو فکر ملکی مفاد سے زیادہ ہے کیونکہ سیاست کے ذریعے ہی اقتدار میں آ کر وزارتیں اور حکومتی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں جب کہ مالی مفاد اتنا عزیز ہے کہ کے پی کی پی ٹی آئی حکومت میں اس کے ارکان اسمبلی اپنی پارٹی کو ماہانہ پچاس ہزار روپے دینے کو تیار نہیں جب کہ پارٹی کو ان کی مالی مدد کی ضرورت ہے مگر پارٹی پر مالی مفاد پہلی ترجیح بن چکا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمن سیاسی مفاد اور حکومتی اور حکومت مالی مفاد حکومت میں ایک دوسرے پی ٹی آئی مسلم لیگ دوسرے کی ملک میں ہے اور کے لیے

پڑھیں:

جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات

بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔

منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔

بی جے پی حکومت پر سنگین الزامات

منگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔

میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائی

سابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔

امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواست

ممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘  نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔

ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔

دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

مجھے سب کچھ معلوم ہے

اپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔

نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔

مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے