جنگ اور مذاکرات دونوں کے لیے تیار ہیں: ایرانی وزیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ ایران نہ صرف مذاکرات کے لیے تیار ہے بلکہ کسی بھی صورت حال میں جنگ کے لیے بھی مکمل طور پر تیار رہتا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ گذشتہ چند دنوں میں ملک بھر کے پرامن مظاہرے پرتشدد واقعات میں تبدیل ہوگئے، جن کے دوران دو ہفتوں کے عرصے میں تقریباً 350 مساجد کو آگ لگائی گئی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ تشدد میں اضافے کے دوران دہشت گرد عناصر نے نہ صرف مظاہرین بلکہ سکیورٹی فورسز کو بھی نشانہ بنایا، تاہم صورتحال اب مکمل کنٹرول میں ہے، اس کے باوجود ایرانی سکیورٹی فورسز نے مظاہروں کے دوران زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کیا اور وہ مظاہرین کے جائز مطالبات کو بھی سن رہے تھے۔
عراقچی نے الزام لگایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کی بات کے بعد احتجاجات کو جان بوجھ کر خونریز شکل دی گئی تاکہ امریکا کو مداخلت کا بہانہ فراہم کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران مذاکرات کے میز پر بھی تیار ہے اور اپنی سرزمین کی حفاظت کے لیے جنگ کی صورت میں بھی کوئی کمی نہیں برتے گا۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا ہے اور اس کے انتظامات جاری ہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی دھمکی دی کہ امریکا ایران میں ممکنہ فوجی کارروائی کے آپشنز پر غور کر رہا ہے، جو بظاہر بات چیت سے قبل اختیار کیے جا سکتے ہیں۔
عراقچی کے اس بیان سے ایک واضح پیغام یہ بھی ملتا ہے کہ ایران دونوں محاذوں پر اپنی حکمت عملی تیار رکھتا ہے: ایک طرف عالمی سطح پر بات چیت کے دروازے کھلے ہیں، تو دوسری جانب ملکی خودمختاری اور سکیورٹی کے لیے سخت موقف اختیار کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔