data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پشاور: خیبر پختونخوا میں ٹانک اور لکی مروت کے علاقوں میں پولیس پر حملے کے دو الگ الگ واقعات میں ایس ایچ او سمیت 6 پولیس اہلکار شہید جب کہ 3 اہلکار زخمی ہو گئے۔

حملوں میں پولیس کی بکتر بند گاڑی کو بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا، جس کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

پہلا واقعہ ضلع ٹانک کے علاقے گومل میں پیش آیا، جہاں پولیس کی اے پی سی (بکتر بند گاڑی) کو آئی ای ڈی دھماکے کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ دھماکا کوٹ ولی سے تقریباً 25 کلومیٹر کے فاصلے پر ہوا، جہاں پولیس معمول کی گشت اور ڈیوٹی پر مامور تھی۔ زور دار دھماکے کے نتیجے میں بکتر بند گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی ۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے میں تھانہ گومل کے ایس ایچ او اسحاق احمد خان سمیت 6 پولیس اہلکار موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ شہداء میں اے ایس آئی شیر اسلم خان، ڈرائیور عبدالمجید، ارشد علی، حضرت علی اور احسان اللہ شامل ہیں۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچ گئیں اور شہداء کی لاشوں کو تحویل میں لے کر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔

دوسرا واقعہ ضلع لکی مروت میں پیش آیا، جہاں تھانہ صدر کی حدود میں درہ تنگ کے قریب آئی ای ڈی بم دھماکا ہوا۔ اس حملے میں تھانہ صدر کے ایس ایچ او رازق خان سمیت 3 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس کے مطابق دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ نصب کیا گیا تھا، جسے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اڑایا گیا۔

ذرائع کے مطابق اس وقت ڈی پی او لکی مروت چوکیوں کے دورے پر تھے اور اسی راستے سے ان کی آمد متوقع تھی، تاہم دھماکا ان کے پہنچنے سے قبل ہو گیا۔ سیکورٹی اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ حملے کا مقصد اعلیٰ پولیس افسر کو نشانہ بنانا ہو سکتا تھا۔ علاقے کو فوری طور پر گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

ان حملوں کے بعد صوبے میں پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں کے تحت حفاظتی انتظامات مزید سخت کردیے گئے ہیں جب کہ اعلیٰ حکام کی جانب سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی اور شہداء کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بکتر بند گاڑی ایس ایچ او میں پولیس کے مطابق

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا