ٹانک: گومل بازار روڈ پر بکتر بند پولیس گاڑی کے قریب دھماکا، 5 اہلکار شہید
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
خیبرپختونخوا کے ضلع ٹانک میں گومل بازار روڈ پر پولیس کی بکتر بند گاڑی کے قریب ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کے نتیجے میں پانچ پولیس اہلکار شہید ہو گئے۔
پولیس کے مطابق بکتر بند گاڑی تھانہ گومل سے ٹانک کی جانب جا رہی تھی کہ راستے میں گومل بازار روڈ پر دھماکے کا نشانہ بنی۔ دھماکا اتنا شدید تھا کہ بکتر بند گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شہید ہونے والے اہلکاروں میں تھانہ گومل کے ایڈیشنل ایس ایچ او اسحاق خان بھی شامل ہیں۔
واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا، جبکہ شہداء کی لاشیں ہسپتال منتقل کر دی گئیں۔ مزید تحقیقات جاری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بکتر بند
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔