لاہور تاپشاوربرفباری کی پیشگوئی
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
محکمہ موسمیات پاکستان (پی ایم ڈی) نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان خبروں پر وضاحت جاری کی ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ 16 سے 25 جنوری کے دوران پشاور سے لاہور تک بڑے پیمانے پر برفباری اور ’’غیر معمولی‘‘ شدید سردی کی لہر آ سکتی ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان پوسٹس میں کہا گیا ہے کہ ملک ریکارڈ توڑ سردی کی جانب بڑھ رہا ہے، جسے بعض صارفین نے گزشتہ 100 برسوں کی بدترین سردی قرار دیا ہے۔ ان دعوؤں کو ایک مبینہ ’’پولر ورٹیکس‘‘ سے جوڑا گیا ہے، جو بظاہر سائبیریا کے ہائی پریشر سسٹم کے باعث افغانستان، ایران اور پاکستان تک پھیلنے کا کہا جا رہا ہے۔ ان دعوؤں کے حق میں ایک ای سی ایم ڈبلیو ایف (ECMWF) درجہ حرارت کی ایناملی میپ بھی شیئر کی جا رہی ہے، جسے آئندہ 8 سے 10 دنوں میں انتہائی موسمی حالات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ وائرل رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہری علاقوں میں برفباری ہو سکتی ہے اور کم سے کم درجہ حرارت منفی 5 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر سکتا ہے، جبکہ لاہور میں مبینہ طور پر پانچ انچ تک برف پڑنے اور درجہ حرارت منفی 4 ڈگری تک جانے کے دعوے بھی کیے جا رہے ہیں۔ بعض پوسٹس میں صورتحال کا موازنہ جنوری 1964 سے کرتے ہوئے اسے دہائیوں میں ایک بار پیش آنے والا واقعہ قرار دیا گیا ہے۔ تاہم محکمہ موسمیات پاکستان نے ان تمام دعوؤں کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے انہیں گمراہ کن اور غیر مصدقہ قرار دیا ہے۔ پی ایم ڈی نے 16 سے 25 جنوری کے حوالے سے وضاحت میں کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر زیرِ گردش دعوؤں کے برعکس کسی غیر معمولی یا تاریخی سردی کی لہر کی توقع نہیں ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق عددی موسمی ماڈلز اور مشاہداتی ڈیٹا کی بنیاد پر کی گئی تازہ ترین جانچ سے ظاہر ہوتا ہے کہ درجہ حرارت معمول کے مطابق موسمِ سرما کی حد میں ہی رہنے کا امکان ہے، اور کسی بڑے پیمانے پر یا طویل المدت ریکارڈ توڑ سردی کے شواہد موجود نہیں ہیں۔ پی ایم ڈی نے عوام اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ سرکاری پیشگوئیوں، انتباہات اور ایڈوائزریز پر ہی انحصار کریں اور غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے گریز کریں، کیونکہ ایسی خبریں بلاوجہ تشویش اور خوف کا باعث بن سکتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
فائل فوٹوڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن نےلاہور میں بلدیاتی الیکشن کی نئی حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی ہے، جن میں 159 یونین کونسلز کا اضافہ کیا گیا ہے۔
صوبائی دارالحکومت میں مجموعی طور پر 433 یونین کونسلز بنائی گئی ہیں، 2015 کے بلدیاتی الیکشن میں لاہور میں 274 یونین کونسلز تھیں۔
ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن لاہور کی ابتدائی فہرست کے مطابق راوی ٹاؤن 52، شالیمار میں 72، واہگہ ٹاؤن میں 25 یونین کونسل قائم کی گئی ہیں۔
ماڈل ٹاؤن میں 77، نشتر ٹاؤن میں 40 اور صدر کینٹ میں 29، رائے ونڈ سٹی میں 32، لاہور سٹی میں 69 اور علامہ اقبال ٹاؤن میں 37 یونین کونسل بنائی گئی ہیں۔
لاہور کے شہری 23 جون تک حلقہ بندیوں پر اعتراضات دائر کرسکتے ہیں، حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست 10 اگست کو جاری ہوگی۔