کراچی میں شدید سردی، کم سے کم درجہ حرارت 6 ڈگری تک گر گیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
شہرِ قائد اس وقت شدید سرد موسم کی لپیٹ میں ہے جہاں درجہ حرارت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں کم سے کم درجہ حرارت مجموعی طور پر 8.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ بعض علاقوں میں سردی کی شدت اس سے بھی زیادہ رہی۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات شہر کے مختلف حصوں میں سب سے کم درجہ حرارت جناح ٹرمینل پر 6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ گلستانِ جوہر اور شاہراہ فیصل پر کم سے کم درجہ حرارت 9 ڈگری، ماڑی پور میں 10 جبکہ بن قاسم کے علاقے میں 10.
محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم خشک اور رات کے اوقات میں سرد رہنے کا امکان ہے، جبکہ کم سے کم درجہ حرارت 8 سے 10 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہ سکتا ہے۔ شہر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 24 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کی توقع ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اس وقت شہر میں ہوا میں نمی کا تناسب 44 فیصد ہے، جبکہ شمال مشرقی سمت سے ہوائیں 7 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہیں، جس کے باعث سردی کی شدت مزید محسوس کی جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈگری سینٹی گریڈ محکمہ موسمیات
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔