پنجاب شدید سردی اور دھند کی لپیٹ میں، بھکر میں درجہ حرارت 2 ڈگری تک گر گیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
لاہور:
پنجاب بھر میں سردی کی شدید لہر برقرار ہے جبکہ مختلف شہروں میں دھند نے معمولات زندگی بری طرح متاثر کر دیے ہیں۔
بھکر میں درجہ حرارت 2 سینٹی گریڈ تک گرنے کے باعث شہر اور مضافاتی علاقوں میں خون جما دینے والی سردی نے لوگوں کو گھروں تک محدود کر دیا ہے۔
بھکر میں خشک سردی کے باعث نزلہ، زکام، کھانسی اور دیگر موسمی بیماریوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
طبی ماہرین نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے، گرم لباس استعمال کرنے اور بچوں و بزرگوں کا خاص خیال رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
دوسری جانب ستیانہ شہر اور اس کے گردونواح شدید دھند کی لپیٹ میں آ گئے ہیں جہاں حدِ نگاہ محض تین میٹر تک محدود ہو گئی۔
شدید دھند اور سردی کے باعث سڑکیں ویران اور ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے، جس سے نظامِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ ڈاکٹرز نے بزرگوں اور بچوں کو شدید سردی سے بچانے پر زور دیا ہے۔
ساہیوال میں بھی شہر اور گردونواح میں گھنی دھند چھائی ہوئی ہے، جس کے باعث حدِ نگاہ انتہائی کم ہو گئی۔
موٹروے اور نیشنل ہائی وے پر ٹریفک کی روانی متاثر ہونے پر موٹروے پولیس نے ڈرائیور حضرات کو فوگ لائٹس کے استعمال اور غیر ضروری سفر سے اجتناب کی ہدایت جاری کی ہے۔
خوشاب اور اس کے گردونواح میں بھی شدید دھند کا راج ہے جبکہ لاہور–سرگودھا جی ٹی روڈ پر دھند کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی ہے۔ .
دھند کے سبب خوشاب سے دیگر شہروں کو جانے والی مسافر بسیں تاخیر کا شکار ہو گئیں۔ .
ٹریفک پولیس اور پیٹرولنگ پولیس نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ دھند کے دوران فوگ لائٹس آن رکھیں، رفتار کم رکھیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند روز تک سردی اور دھند کی شدت برقرار رہنے کا امکان ہے، شہریوں کو محتاط رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے باعث
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔