پی ڈی ایم اے کا 16جنوری تک سردی کی شدت کا الرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: پی ڈی ایم اے نے 16 جنوری تک سردی کی شدت سے متعلق الرٹ جاری کردیا۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق راولپنڈی، مری، گلیات، پوٹھوہار ریجن میں شدید سردی کے ساتھ برفباری کے امکانات ہیں،دھند اور اسموگ کی صورتحال میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ پی ڈی ایم اے نے سیاحت، تعلیم، صحت، زراعت، لوکل گورنمنٹ، جنگلات اور دیگر محکموں کو مراسلہ جاری کردیا ہے۔
دوسری جانب موسمی ماہرین کے مطابق تمام موسمیاتی ماڈلز شدید موسمی حالات کی نشاندہی کر رہے ہیں جس میں سائبیریا کی برفیلی، یخ بستہ ہوائیں براہِ راست پورے خطّے کو متاثر کرنے کے آثار دکھا رہی ہیں۔ ایسی سردی جو دہائیوں بعد پڑنے کے امکانات بن رہے ہیں، پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے میدانی علاقوں سے سندھ تک نقطہ انجماد سے کم درجہ حرارت ریکارڈ ہونے کی توقع ہے۔
ایک کمزور ہوا کا کم دباؤ 11 سے 13 جنوری کے درمیان ملک کے جنوبی علاقوں میں درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ اسکے بعد 16 سے 18 جنوری کے درمیان ایک ملک گیر مغربی ہواؤں کا سلسلہ متوقع ہے۔
راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہری علاقوں میں برفباری کے امکانات ہیں۔ کم سے کم درجہ حرارت انتہائی سطح تک گرسکتا ہے، موسمیاتی ماڈلز کے مطابق لاہور شہر میں برفباری ممکن ہے، یہ حیران کُن صورتحال سن 1878 کے بعد رونما ہو سکتی ہے۔
کوئٹہ شہر میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 20 سے منفی 15 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ محسوس کیا جانے والا درجہ حرارت منفی 25 ڈگری تک گر سکتا ہے۔ ایسا سن 1970 کے بعد ہونے کا امکان ہے۔
پشاور میں شہر میں 15 سے 25 ملی میٹر بارش جبکہ 23 سے 25 جنوری کے درمیان باقاعدہ برفباری بھی ہو سکتی ہے۔ کم سے کم درجہ حرارت منفی 5 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر سکتا ہے۔
بلوچستان کے زیادہ تر علاقوں میں انتہائی سرد درجہ حرارت پر بارش اور برفباری متوقع ہے۔ اس دوران کوئٹہ اور قلّات میں 4 سے 6 انچ برفباری ممکن ہے۔ 21 سے 23 جنوری کے درمیان صوبے بھر میں 60 سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی انتہائی سرد، برفیلی ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جنوری کے درمیان پی ڈی ایم اے
پڑھیں:
مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
لاہور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں ہونےوالی مون سون کی بارش نے جل تھل ایک کردیا۔لاہور میں مون سون کا سپیل زور شور سے جاری ہے اورعلی الصبح سے ہونے والی موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقے زیرآب آگئے ہیں۔واسا لاہور کی جانب سے اب تک ہونے والی بارش کا ریکارڈ جاری کردیاگیاہے جس کے مطابق جیل روڈمیں 28.5، ایئرپورٹ میں 263، ہیڈ آفس گلبرگ میں 52، لکشمی چوک میں 25، اپر مال کے علاقے میں 114.4، مغلپورہ میں 129، تاجپورہ میں 155، نشتر ٹاؤن میں 56.4، چوک ناخدا میں 62، پانی والا تالاب میں 27.2، فرخ آباد میں 23.4، گلشن راوی میں 18، اقبال ٹاؤن میں 54.2، سمن آبادمیں 32، جوہر ٹاؤن میں 81، ڈیفنس روڈ میں 45، شادی پورہ میں 132.4 ، سگیاں میں 22.2اور مناواں میں 106 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی،سب سے زیادہ 263 ملی میٹر بارش ائیر پورٹ پر ریکارڈ کی گئی ہے ۔لاہور میں ہونےوالی موسلادھار بارش سےسیشن کورٹ میں سینئر قانون دان پیر مسعود چشتی سمیت2 وکلاء کے چیمبر گرگئے،پیر مسعود چشتی کا چیمبر کافی عرصے سے خالی پڑاتھا،چیمبر کی چھت بارش کے پانی کا بوجھ برداشت نہ کر سکی اورگرگئی،شدید بارش کی وجہ سے ماتحت عدالتوں میں سائلین نہ پہنچ سکے۔ دوسری طرف آئی جی پنجاب نے پولیس کو حادثات اور ناگہانی صورتحال میں امدادی سرگرمیوں میں شرکت کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ پولیس افسران اور اہلکار بارش سے متاثرہ علاقوں میں انتہائی مستعد ہو کر ڈیوٹی انجام دیں،سپروائزری پولیس افسران بارش زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں خود مانیٹر کریں، بارش کے مزید امکانات کے پیش نظر پولیس افسران اور اہلکار الرٹ رہیں،کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ریسپانڈ کریں۔ملک کے دوسرے حصوں کی طرح ضلع خیبر کے باڑہ اور جمرود کے علاؤہ وادی تیراہ کے پہاڑوں پر بھی ہونے والی بارش سے موسم خوشگوارہوگیا لیکن ندی نالوں میں طغیانی اور دریائے باڑہ میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے ،جولائی کے مہینے میں دسمبر جیسے سردی محسوس کی جارہی ہے،پہاڑی علاقوں میں بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے،ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو کی جانب سے حفاظتی انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں جبکہ ندی نالوں کے قریب جانے پر پابندی کی خلاف ورزی پر دوافرادکو گرفتار بھی کرلیاگیاہے۔