Al Qamar Online:
2026-06-02@22:29:03 GMT

پی ڈی ایم اے کا 16جنوری تک سردی کی شدت کا الرٹ جاری

اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT

پی ڈی ایم اے کا 16جنوری تک سردی کی شدت کا الرٹ جاری

اسلام آباد: پی ڈی ایم اے نے 16 جنوری تک سردی کی شدت سے متعلق الرٹ جاری کردیا۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق راولپنڈی، مری، گلیات، پوٹھوہار ریجن میں شدید سردی کے ساتھ برفباری کے امکانات ہیں،دھند اور اسموگ کی صورتحال میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ پی ڈی ایم اے نے سیاحت، تعلیم، صحت، زراعت، لوکل گورنمنٹ، جنگلات اور دیگر محکموں کو مراسلہ جاری کردیا ہے۔

دوسری جانب موسمی ماہرین کے مطابق تمام موسمیاتی ماڈلز شدید موسمی حالات کی نشاندہی کر رہے ہیں جس میں سائبیریا کی برفیلی، یخ بستہ ہوائیں براہِ راست پورے خطّے کو متاثر کرنے کے آثار دکھا رہی ہیں۔ ایسی سردی جو دہائیوں بعد پڑنے کے امکانات بن رہے ہیں، پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے میدانی علاقوں سے سندھ تک نقطہ انجماد سے کم درجہ حرارت ریکارڈ ہونے کی توقع ہے۔

ایک کمزور ہوا کا کم دباؤ 11 سے 13 جنوری کے درمیان ملک کے جنوبی علاقوں میں درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ اسکے بعد 16 سے 18 جنوری کے درمیان ایک ملک گیر مغربی ہواؤں کا سلسلہ متوقع ہے۔

راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہری علاقوں میں برفباری کے امکانات ہیں۔ کم سے کم درجہ حرارت انتہائی سطح تک گرسکتا ہے، موسمیاتی ماڈلز کے مطابق لاہور شہر میں برفباری ممکن ہے، یہ حیران کُن صورتحال سن 1878 کے بعد رونما ہو سکتی ہے۔

کوئٹہ شہر میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 20 سے منفی 15 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ محسوس کیا جانے والا درجہ حرارت منفی 25 ڈگری تک گر سکتا ہے۔ ایسا سن 1970 کے بعد ہونے کا امکان ہے۔

پشاور میں شہر میں 15 سے 25 ملی میٹر بارش جبکہ 23 سے 25 جنوری کے درمیان باقاعدہ برفباری بھی ہو سکتی ہے۔ کم سے کم درجہ حرارت منفی 5 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر سکتا ہے۔

بلوچستان کے زیادہ تر علاقوں میں انتہائی سرد درجہ حرارت پر بارش اور برفباری متوقع ہے۔ اس دوران کوئٹہ اور قلّات میں 4 سے 6 انچ برفباری ممکن ہے۔ 21 سے 23 جنوری کے درمیان صوبے بھر میں 60 سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی انتہائی سرد، برفیلی ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل جنوری کے درمیان پی ڈی ایم اے

پڑھیں:

سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے

سکھر:

سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔

مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔

دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔

سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔

سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔

صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔

سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔

انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔

سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان