مری پولیس”مشن سیف ونٹر”کے تحت برفباری کے متوقع چیلنج کو محفوظ سیاحت میں بدلنے کے لئے مکمل تیار WhatsAppFacebookTwitter 0 12 January, 2026 سب نیوز

مری/اسلام آباد( سب نیوز)

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مری ڈاکٹر محمدرضا تنویر نے کہا ہے کہ مری پولیس نے سیاحوں کی حفاظت کے لیے ایک فول پروف ‘ڈیجیٹل اور فیلڈ حصار’ قائم کر دیا ہے۔ پوری فورس ہائی الرٹ، “ڈی پی او ڈائریکٹ” کے ذریعے پولیس اور عوام کے درمیان حائل روایتی فاصلوں کو بھی ختم کر دیا ہے۔ اب مری کا سفر محض ایک سیر و سیاحت نہیں، بلکہ جدید مانیٹرنگ اور فوری رسپانس سسٹم کے سائے میں ایک محفوظ تجربہ ہوگا۔

پیر کو میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی پی او مری ڈاکٹر محمد رضا تنویر کا کہنا تھا کہ
محکمہ موسمیات کی جانب سے 17 سے 21 جنوری تک متوقع شدید برفباری اور سیاحوں کی کثیر تعداد میں آمد ، گاڑیوں کے داخلے کی پیشگوئی کے پیش نظرتمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ ضلعی پولیس، ٹریفک پولیس اور سیف سٹی ٹیمیں مری اور ملحقہ علاقوں میں مکمل طور پر متحرک ہیں، جہاں تمام انٹری پوائنٹس پر سخت چیکنگ اور ٹریفک ڈائیورژن پلان پر بروقت عمل کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔ سیف سٹی کے سی سی ٹی وی کیمروں اور اے این پی آر سسٹم کے ذریعے حساس سڑکوں کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ کی بنیاد پر فیلڈ میں فوری فیصلے کیے جا رہے ہیں۔

ڈاکٹر رضا تنویر نے بتایا کہ ڈھلوانی سڑکوں اور لینڈ سلائیڈ کے خدشات والے علاقوں میں دن رات گشت کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے۔ ریکوری کرینز، نمک چھڑکنے والی مشینری اور ریسکیو 1122 کے ساتھ مکمل کوآرڈینیشن کے تحت ایمرجنسی رسپانس یقینی بنایا گیا ہے، جبکہ سینئر افسران خود فیلڈ ڈیوٹی کی نگرانی کر رہے ہیں۔ متوقع شدید برفباری کے پیش نظر اضافی پولیس نفری بھی طلب کی جا رہی ہے تاکہ ٹریفک کنٹرول اور عوامی سہولت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

ڈی پی او مری نے عوام اور سیاحوں کو سخت ہدایت کی ہے کہ برفباری کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ ناگزیر سفر کی صورت میں گاڑی کا ایندھن مکمل رکھیں، گرم کپڑے، خوراک اور اسنو چینز کا استعمال یقینی بنائیں۔ انہوں نے خاص طور پر تاکید کی کہ گاڑی کھڑی ہونے کی صورت میں ایک کھڑکی قدرے کھلی رکھیں تاکہ تازہ ہوا کی آمدورفت برقرار رہے۔

ڈاکٹر رضاتنویر نے بتایا کہ عوامی شکایات کے ازالے کے لیے “ڈی پی او ڈائریکٹ” سروس کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ سیاح اور شہری اب اپنے ٹریفک و سیکیورٹی مسائل یا کسی بھی بدتمیزی کی اطلاع براہ راست واٹس ایپ نمبر 03111177553 پر میسج کے ذریعے دے سکتے ہیں۔ یہ سروس فوری اور خفیہ کارروائی کا ذریعہ ہوگی، جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر 15 پر رابطہ کیا جائے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرٹانک میں پولیس بکتر بند پر آئی ای ڈی حملہ؛ ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار شہید ٹانک میں پولیس بکتر بند پر آئی ای ڈی حملہ؛ ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار شہید ایف آئی اے کی کارروائی، سی پیک پروجیکٹس کے بہانے شہری سے کروڑوں کی جائیداد ہتھیانے والے ملزمان پکڑے گئے ٹرمپ نے خود کو وینزویلا کا عبوری صدر قرار دے دیا، نئی تصویر جاری کردی ہم جنگ اور مذاکرات دونوں کے لیے تیار ہیں: ایرانی وزیر خارجہ ایک سال میں پی آئی اے کو منافع بخش ادارہ بنا کر دکھائیں گے، عارف حبیب بجلی صارفین کیلئے بڑی خوشخبری، حکومت کا بنیادی ٹیرف میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: برفباری کے

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • مختلف علاقوں میں بارشیں ہی بارشیں؛محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کردی
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • گلشن اقبال میں تیز رفتار ڈمپر الٹ گیا، شہری معجزانہ طور پر محفوظ، مشتعل افراد کا کلینر پر تشدد
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار