بدین: کسان کیلاش کے قتل میں ملوث ملزم کا دودن کا جسمانی ریمانڈ منظور
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260112-05-4
بدین (نمائندہ جسارت)کسان کیلاش کولہی کے قتل میں نامزد ملزم سرفراز نظامانی اور اس کے سہولت کار ظفر اللہ خان کو پولیس نے آ ج بدین میں میجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کرکے دودن کا رمانڈ حاصل کرلیا ہے اور مزید تفتیش کے لیئے نامعلوم جگہ پر منتقل کر دیا ہے دوسری طرف بدین پولیس کے ذرائع کے مطابق ابتدائی تفتیش میں سرفراز نظامانی نے بتایا ہے کے اگر میں فائرنگ نہیں کرتا تو کیلاش اور اس کے ساتھ دو ان کی ساتھی مجھے قتل کر دیتے پولیس کے ذرائع کے مطابق سرفراز نظامانی نے بتایا ہے کے کیلاش اور اس کے ساتھ دو افراد تھے ان کے پاس کلہاڑیاں تھی اور وہ متنازعہ زمین کے حصے پر جھوپڑی بنا رہے تھے اور وہ زبردستی اس زمین پر جھوپڑی بنانے کی کوشش کر رہے تھے جس پر منع کرنے پر وہ مشتعل ہو گئے اگر میں فائرنگ نہ کرتا تو وہ مجھے مار دیتے اس سلسلے میں بدین پریس کلب کی میڈیا ٹیم بدین تھانے پہنچ کر ملزم سرفراز نظامانی سے ملنے کی کوشش کی تب تک پولیس سرفراز نظامانی کو لیکر نامعلوم مقام کی طرف روانہ ہو چکی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔