روس اور یوکرین کی جانب سے ایک دوسرے کے توانائی انفراسٹرکچرز پر شدید حملے
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
روس اور یوکرین نے پیر کے روز ایک دوسرے پر رات گئے فضائی حملے کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں، جن میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔
یوکرینی میڈیا کے مطابق یوکرین نے روس کے روستوف ریجن میں واقع نووچرکاسکایا پاور پلانٹ پر ڈرون حملہ کیا جو کامیاب رہا۔ دوسری جانب یوکرین نے یہ الزام بھی لگایا کہ روسی افواج نے یوکرین کے اوڈیسا ریجن میں ایک انفراسٹرکچر ہدف پر حملہ کیا۔
یہ بھی پڑھیے: ملازمت کے نام پر روس یوکرین جنگ کا ایندھن بنائے جانے والے بھارتی شہری کی ویڈیو وائرل
روس کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ روستوف ریجن میں یوکرین کے 6 ڈرون مار گرائے گئے، تاہم وزارت نے پاور پلانٹ کو نقصان پہنچنے یا نہ پہنچنے کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔
تاہم روسی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ مذکورہ پاور پلانٹ متاثر ہوا، رپورٹس کے مطابق مار گرائے گئے ایک ڈرون کے ملبے سے پلانٹ کے ایک حصے میں آگ بھڑک اٹھی۔ جنگی صورتحال کے باعث دونوں جانب سے کیے گئے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق کرنا مشکل ہے۔
ادھر برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2026 میں یوکرین کی دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے کے لیے نئے ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل تیار کرے گا۔
برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق پروجیکٹ نائٹ فال کے تحت یوکرین کے لیے زمین سے داغے جانے والے بیلسٹک میزائلوں کی تیز رفتار تیاری کا مقابلہ شروع کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زیلنسکی ٹرمپ ملاقات سے ایک روز قبل یوکرینی دارالحکومت پر میزائل حملے
ان میزائلوں میں 200 کلوگرام (440 پاؤنڈ) وزنی وار ہیڈ لے جانے اور 500 کلومیٹر (310 میل) سے زائد فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت ہوگی۔ اس منصوبے کا مقصد نہ صرف یوکرین کی مدد کو 2026 تک جاری رکھنا ہے بلکہ برطانیہ کی دفاعی صنعت میں جدت اور ترقی کو بھی فروغ دینا ہے۔
پروگرام کے تحت فی میزائل زیادہ سے زیادہ لاگت 8 لاکھ پاؤنڈ (تقریباً 10 لاکھ ڈالر) رکھی گئی ہے، جسے یوکرین کے لیے کم لاگت مگر مؤثر طویل فاصلے تک مار کرنے والا ہتھیار قرار دیا جا رہا ہے، جس پر غیر ملکی برآمدی پابندیاں بھی کم ہوں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا بجلی حملے روس یوکرین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا بجلی حملے یوکرین یوکرین کے کے لیے
پڑھیں:
دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
لاہور: دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلاب آ گیا ۔ فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق ہیڈ قادر آباد پر پانی کی آمد 2 لاکھ 36 ہزار کیو سک تک پہنچ گئی ہے۔دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر درمیانےدرجے کا سیلاب ہے ۔پانی کا بہاؤ بڑھ کر 73 ہزار 635 کیو سک تک پہنچ گیا ۔اس کے علاوہ دریائے کابل میں نوشہرہ میں بدستور نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب ہیں۔بلوچستان میں سبی ڈویژن کے دریائے لہڑی میں ہیڈگوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 95 ہزار 913 کیو سک ریکارڈ کیا گیا ہے۔دوسر ی جانب سیالکوٹ میں دریائے چناب میں پھنسے تمام 5 افراد کو ریسکیوکرلیا گیا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق پانچوں افراد کام کے لیے گئے تھے واپسی پر کشتی خراب ہوگئی تھیواضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔