بھارتی خلائی ادارے اسرو کے پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل (پی ایس ایل وی) کو پیر کے روز لانچ کے دوران تکنیکی مسئلے کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں مشن تیسرے مرحلے میں ناکام ہو گیا۔ راکٹ کو سری ہری کوٹا میں واقع ستیش دھون اسپیس سینٹر سے روانہ کیا گیا تھا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ایس ایل وی راکٹ کی یہ مسلسل دوسری ناکامی ہے، اس سے قبل مئی میں بھی اسرو کا ایک پی ایس ایل وی مشن اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا۔

مزید پڑھیں: اب چاند پر بھی وقت ناپا جاسکے گا، چین نے سوفٹ ویئر تیار کرلیا

پی ایس ایل وی راکٹ صبح 10 بج کر 17 منٹ پر لانچ ہوا اور ابتدائی دو مراحل کامیابی سے مکمل ہوئے، جبکہ اسٹیج سیپریشن بھی معمول کے مطابق انجام پائی۔ تاہم لانچ کے قریباً 8 منٹ بعد تیسرے مرحلے کے دوران راکٹ میں خرابی پیدا ہو گئی جس کے باعث مشن آگے نہ بڑھ سکا۔

اسرو نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ پی ایس ایل وی-سی 62 مشن کو پی ایس تھری مرحلے کے اختتام پر تکنیکی مسئلہ درپیش آیا، جس کی مکمل جانچ پڑتال کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

یہ مشن پی ایس ایل وی ڈی ایل ویرینٹ کے ذریعے انجام دیا جا رہا تھا، جو اضافی طاقت کے لیے دو سالڈ اسٹریپ آن موٹرز سے لیس ہوتا ہے۔ راکٹ جدید ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ ای او ایس این ون لے جا رہا تھا، جسے انویشا کا نام دیا گیا تھا۔

یہ سیٹلائٹ ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن نے تیار کیا تھا اور اس میں ہائپر اسپیکٹرل امیجنگ ٹیکنالوجی نصب تھی، جو ہر پکسل میں روشنی کی متعدد لہریں محفوظ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

مشن میں مجموعی طور پر 16 دیگر چھوٹے سیٹلائٹس بھی شامل تھے، جن میں اسپین کے ایک اسٹارٹ اپ کا تیار کردہ کیسٹرل انیشل ٹیکنالوجی ڈیمانسٹریٹ شامل تھا، جو ایک چھوٹے ری انٹری وہیکل کا پروٹوٹائپ تھا اور جسے زمین کے ماحول میں واپس آ کر جنوبی بحرالکاہل میں لینڈ کرنا تھا۔

اس کے علاوہ مشن میں حیدرآباد کے اسٹارٹ اپس ٹیک می ٹو اسپیس اور ای اون اسپیس لیبز کے سیٹلائٹس، برازیل کے پانچ سیٹلائٹس، برطانیہ اور تھائی لینڈ کا ایک ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ اور نیپال کا ایک ٹیکنالوجی ڈیمانسٹریشن سیٹلائٹ بھی شامل تھا۔ مشن کا سب سے نمایاں سیٹلائٹ آئول سیٹ تھا، جسے بنگلورو کے اسٹارٹ اپ اوربٹ ایڈ ایئرو اسپیس نے تیار کیا۔

اس سیٹلائٹ کو خلا میں موجود سیٹلائٹس کو ایندھن فراہم کرنے کے تصور کے تحت ڈیزائن کیا گیا تھا، جسے مستقبل کے ’خلائی پٹرول پمپ‘ کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا۔ اسرو کا منصوبہ تھا کہ تمام سیٹلائٹس کو سورج سے ہم آہنگ پولر مدار میں داخل کیا جائے۔

ایم او آئی ون سیٹلائٹ میں مدار میں کام کرنے والی ایک جدید اے آئی امیج پروسیسنگ لیب نصب تھی، جو ڈیٹا کو زمین پر منتقل کرنے کے بجائے خلا میں ہی پراسیس کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ اسے سپیس سائبر کیفے سے تشبیہ دی گئی تھی، جہاں صارفین مخصوص فیس کے عوض خلا میں کمپیوٹنگ وقت حاصل کر سکتے تھے۔ اس سیٹلائٹ میں دنیا کی سب سے ہلکی خلائی دوربین میرا بھی شامل تھی، جس کا وزن تقریباً 502 گرام بتایا گیا۔

اسرو کے مطابق راکٹ کی روانگی معمول کے مطابق تھی، تاہم تیسرے مرحلے کے دوران راکٹ اپنے مقررہ راستے سے ہٹنے لگا۔

ادارے کے چیئرمین ڈاکٹر وی نارائنن نے بتایا کہ تیسرے مرحلے کے اختتام تک راکٹ کی کارکردگی درست رہی، اس کے بعد گھومنے کی رفتار میں خلل اور پرواز کے راستے میں انحراف سامنے آیا۔

ڈاکٹر وی نارائنن کا کہنا تھا کہ فلائٹ ڈیٹا کا تفصیلی تجزیہ کیا جا رہا ہے اور تحقیقات کے لیے فیلیئر اینالیسس کمیٹی قائم کی جائے گی۔

ابتدائی اندازوں کے مطابق امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مشن میں شامل تمام سیٹلائٹس قابلِ استعمال مدار تک نہیں پہنچ سکے۔

مزید پڑھیں: خاتون خلا باز کی قیادت میں ناسا کا نیا خلائی مشن روانہ ہونے کو تیار

یہ مشن شری ہری کوٹا سے ہونے والی 105ویں لانچ تھا، جبکہ پی ایس ایل وی راکٹ کی مجموعی طور پر 64ویں پرواز اور پی ایس ایل وی ڈی ایل ویرینٹ کی پانچویں لانچ تھی۔ یہ مشن نیو اسپیس انڈیا لمیٹڈ کے تحت انجام دیا گیا، جو اسرو کا کمرشل بازو ہے اور این ایس آئی ایل کا یہ نواں مشن تھا۔

گزشتہ ایک سال کے دوران پی ایس ایل وی راکٹ کو درپیش یہ دوسری بڑی ناکامی ہے۔ اس سے قبل مئی میں پی ایس ایل وی سی 61 مشن بھی سورج سے ہم آہنگ پولر مدار میں مقررہ بلندی تک پہنچنے میں ناکام رہا تھا، جس کی وجہ بھی تیسرے مرحلے میں خرابی بنی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بڑا دھچکا بھارت خلائی محاذ راکٹ مشن ناکام وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بڑا دھچکا بھارت خلائی محاذ راکٹ مشن ناکام وی نیوز تیسرے مرحلے کے دوران مرحلے کے کے مطابق خلا میں رہا تھا راکٹ کی کیا جا جا رہا

پڑھیں:

فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام

سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور فیس بک پر متعدد افراد اور سرگرم بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹس 30 مئی 2026 سے ایک ویڈیو شیئر کر رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل (کاؤنٹر انٹیلیجنس) میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

تاہم، حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے جس میں ایک بھارتی شہری تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں پٹ رہا ہے۔

یہ دعویٰ کیسے پھیلا؟

30 مئی کو ایک ایسا ایکس اکاؤنٹ (جو اپنی سابقہ پوسٹس کی بنیاد پر ریاست مخالف معلوم ہوتا ہے) نے ایک ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ اس میں ایک پاکستانی فوجی افسر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے گروہ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔

پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا:

’ایک پاکستانی آرمی کرنل کو تھائی لیڈی بوائز نے اس وقت بری طرح مارا پیٹا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سیاحت پر آیا تھا اور مقامی علاقے کی ایک کم عمر لڑکی سے ملاقات کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘

اس پوسٹ کو42 ہزار 900 مرتبہ دیکھا گیا۔

اسی طرح 31 مئی کو ایک بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا:

’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے اس لیے مارا پیٹا کیونکہ انہوں نے طے شدہ رقم ادا نہیں کی۔‘

اس پوسٹ کو 14 لاکھ ویوز حاصل ہوئے۔

ایک اور بھارت نواز اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:

’پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر (ڈَرٹی ہیری)، ڈی جی آئی ایس آئی (کاؤنٹر انٹیلیجنس)، کو فوکیٹ میں کسی تلخ بحث کے بعد تھائی لیڈی بوائز نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔‘

اس پوسٹ کو 5 لاکھ 75 ہزار 800 مرتبہ دیکھا گیا۔

اسی دوران ایک اور بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ، جو عموماً پاکستان مخالف مواد شیئر کرتا ہے، نے 31 مئی کو ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا:

’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے وعدہ کی گئی رقم ادا نہ کرنے پر مارا پیٹا۔ اس سے قبل 2025 میں بھی ان کی اپنی کم عمر کزن کے ساتھ ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔‘

اس پوسٹ کو 1 لاکھ 40 ہزار ویوز ملے۔

اس کے علاوہ متعدد دیگر صارفین (جن میں اکثریت بھارتی معلوم ہوتی ہے) نے بھی اسی نوعیت کے دعووں کے ساتھ یہ ویڈیو شیئر کی، جن کی مجموعی ویوز 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد رہے۔

        View this post on Instagram                      

حقائق کی جانچ کیسے کی گئی؟

اس دعوے کی غیر معمولی مقبولیت اور عوامی دلچسپی کے باعث اس کی حقیقت جانچنے کے لیے فیکٹ چیک کا آغاز کیا گیا۔

ویڈیو کے اصل ماخذ تک پہنچنے کے لیے گوگل ریورس امیج سرچ کی گئی، جس کے نتیجے میں یہی ویڈیو 3 جنوری 2026 کی ایک ایکس پوسٹ میں ملی، جسے ایک بھارتی صارف نے شیئر کیا تھا۔

اس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا تھا:

’تھائی لینڈ میں ایک بھارتی شہری کی پٹائی۔ 52 سالہ بھارتی شخص راج جسوجا نے مبینہ طور پر 'سروسز' کی ادائیگی سے انکار کیا، جس پر خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق اسے علاج کے لیے پٹایا میموریل اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔‘

"An Indian thrashed in Thailand." ????

A 52-year-old Indian man, Raj Jasuja, who refused to pay for "services," was beaten by a group of transwomen in Thailand.

As per reports, he has been hospitalized at Pattaya Memorial Hospital for treatment. pic.twitter.com/FIcR6iYdaF

— Suraj Kumar Bauddh (@SurajKrBauddh) January 3, 2026

 

دعوے کی مزید تصدیق کے لیے کی گئی کی ورڈز پر مبنی سرچ کے دوران 4 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی ایک خبر سامنے آئی، جسے ہندوستان ٹائمز نے شائع کیا تھا اور جس میں یہی ویڈیو شامل تھی۔

خبر کی سرخی تھی:

’آن کیمرا: تھائی لینڈ میں 'سروس' کی ادائیگی سے انکار پر بھارتی شہری کو خواجہ سراؤں نے تشدد کا نشانہ بنا دیا‘

رپورٹ کے مطابق 52 سالہ بھارتی شہری راج جسوجا کو تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اس وقت مارا پیٹا جب اس نے مبینہ طور پر جنسی خدمات کے عوض طلب کی گئی رقم ادا کرنے سے انکار کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔

ریسکیو اہلکاروں نے راج جسوجا کو چہرے اور سر کے پچھلے حصے پر زخموں کی حالت میں پایا۔ موقع پر اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

جنوری 2026 میں شائع ہونے والی متعدد دیگر معروف بھارتی میڈیا رپورٹس، جن میں The Times of India، The Indian ExpressاورIndia Today شامل ہیں، نے بھی اسی واقعے کو تقریباً یکساں تصاویر اور تفصیلات کے ساتھ رپورٹ کیا۔

فیکٹ چیک کا نتیجہ: خبر غلط قرار

یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو میں پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے، جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے اور اس میں ایک بھارتی شہری کو تھائی خواجہ سراؤں کے ہاتھوں مبینہ طور پر ایسکارٹ سروس کی ادائیگی سے متعلق تنازع کے بعد تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

لہٰذا سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے اور ویڈیو کا میجر جنرل فیصل نصیر یا پاکستانی فوج سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔

یہ فیکٹ چیک اصل میں iVerify Pakistan کی جانب سے شائع کیا گیا تھا، جو Centre for Excellence in Journalism (CEJ-IBA) اور United Nations Development Programme (UNDP) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی