غزہ، انسانی بحران سنگین، اسر ائیلی فورسز کے مظالم جاری، مزید3 فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
غزہ:(نیوزڈیسک) غزہ میں اسرائیلی فورسز کی جانب سے دو الگ الگ واقعات میں تین فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔ مقامی صحت حکام کے مطابق ایک فلسطینی غزہ سٹی کے علاقے التفاح میں شہید ہوا جبکہ دو دیگر جنوبی غزہ کے علاقے بنی سہیلا میں اسرائیلی فائرنگ کا نشانہ بنے۔
غزہ کے ہسپتالوں میں طبی سہولیات کا شدید فقدان پایا جاتا ہے، جہاں ادویات، طبی آلات اور عملے کی کمی کے باعث زخمیوں اور مریضوں کو مناسب علاج کی فراہمی ممکن نہیں رہی۔ طبی ذرائع کے مطابق موجودہ صورتحال نے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
ادھر قابض اسرائیل کی جیل میں فلسطینی قیدی حمزہ عبد اللہ عدوان کی شہادت کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ فلسطینی اسیران کے ادارے اور قیدیوں کے حقوق کی تنظیم کے مطابق حمزہ عدوان 9 ستمبر 2025 کو دورانِ حراست وفات پا گئے تھے، جس کی تفصیلات آج منظرِ عام پر آئی ہیں۔ وہ غزہ سے تعلق رکھتے تھے اور 12 نومبر 2024 کو ایک اسرائیلی فوجی چیک پوسٹ سے گرفتار کیے گئے تھے۔
شہید قیدی کے اہلِ خانہ نے بتایا کہ حمزہ عدوان شدید بیماری میں مبتلا تھے اور مستقل طبی نگہداشت کے محتاج تھے، تاہم قید کے دوران انہیں ضروری علاج فراہم نہیں کیا گیا۔ فلسطینی تنظیموں نے حمزہ عدوان کی شہادت سمیت مجموعی صورتحال کا ذمہ دار اسرائیل کو قرار دیتے ہوئے انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔